سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 314
۳۱۴ ”حضرت مرزا صاحب کی تقریر اتنی پر از معلومات اور جامع تھی کہ ہم نے اول سے آخر تک یکساں دلچسپی سے سنی ہے۔" (الفضل ۴۔دسمبر ۱۹۴۷ء) پانچویں لیکچر کے متعلق جناب شیخ سر عبد القادر صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا۔" حضرت مرزا صاحب کے پر مغز اور پر از معلومات لیکچروں کا اصل منشاء یہی ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ کو اس اہم موضوع پر غور و خوض کرنے کی طرف توجہ ہو اور انہیں معلوم ہو کہ گو ہمارے سامنے بہت سی مشکلات ہیں لیکن اگر ہم استقلال کے ساتھ ان مشکلات پر قابو پانے کی کوشش کریں گے اور کام کرتے چلے جائیں گے تو یقینا ہم اپنی منزل کو پالیں گے۔حضرت مرزا صاحب نے ان لیکچروں کے ذریعہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ہم سب دل سے ان کے ممنون ہیں۔" १९ (الفضل 11 جنوری ۱۹۴۸ء) اسی طرح آپ نے چھٹے لیکچر کی صدارتی تقریر میں فرمایا:۔حضرات میں سمجھتا ہوں کہ میں آپ سب کے دل کی بات کہہ رہا ہوں۔جب کہ میں آپ سب کی طرف سے حضرت مرزا صاحب کا دلی شکریہ ادا کر تا ہوں۔نہ صرف آج کے لیکچر کے لئے بلکہ گذشتہ پانچ لیکچروں کے لئے بھی جن میں بے شمار اہم معاملات اور مسائل کے متعلق نہایت مفید اور ضروری باتیں آپ نے بیان فرمائی ہیں۔میں فاضل مقرر سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر ان لیکچروں کو کتاب کی شکل میں شائع کر دیا جائے تو پبلک آپ کی بہت ممنون ہو گی۔ایک چیز کا میرے دل پر خاص اثر ہے باوجود اس کے کہ فاضل مقرر اور ان کی جماعت کو گذشتہ ہنگاموں میں خاص طور پر بہت نقصان اٹھانا پڑا لیکن آپ نے ان حوادث کی طرف اشارہ تک نہیں کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے میں ایک بہت بڑی حکمت مد نظر تھی اور وہ یہ کہ حضرت مرزا صاحب کا یہ طریق ہے کہ جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا اسے اب بدلا نہیں جا سکتا اس لئے اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔اب جو کچھ آئندہ ہو سکتا ہے اور جو ہمارے اختیار میں ہے صرف اس پر گفتگو ہونی چاہئے۔" الفضل ۱۸۔جنوری ۱۹۴۸ء) قومی پریس نے حضور کی اس بروقت راہنمائی پر خراج تحسین پیش کیا۔مثلاً اخبار