سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 310 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 310

جائے گا۔٣١٠ ۳۔ڈاکہ۔بغاوت اور ارتداد باغیانہ کی سزا قتل ہے۔اِنَّمَا جَزَوا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا اَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَا فِي أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ (مائده : ۳۴) اس میں چار الگ الگ سزا ئیں بتائی ہیں۔یہ سزا ئیں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ہیں۔اگر ایسے لوگ ساتھ قتل کرتے ہوں تو قتل کئے جائیں گے۔صلیب دیتے ہوں تو صلیب دئے جائیں گے۔ہاتھ پاؤں کاٹتے ہوں تو ان سے یہی کیا جائے گا۔محض دنگا فساد کرتے ہوں تو قید یا جلاوطنی کی سزا دی جائے گی۔اس پر کیا اعتراض ہے ؟ اگر مسلمان یہی معاملہ غیر اسلامی حکومت میں کرے اور اس سے یہی سلوک ہو تو مسلمانوں کو کیا اعتراض؟ سوال یہ ہے کہ باغی کافی تھا مرتد کو کیوں شامل کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرتد کا ذکر اس لئے ضروری تھا کہ وہ جنگی سپاہیوں کے حق کا مطالبہ نہ کرے جو باوجود قتل کے قاتل نہیں بن جاتے اور قتل نہیں کئے جاتے۔مرتد کے قتل کے خلاف یہ بھی دلیل ہے کہ پھر ان کو بھی حق پہنچتا ہے۔لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ میں اس حق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔غلامی۔اسلام میں نہیں۔جنگی قیدیوں کا ذکر ہے اور ان کے بارہ میں حکم ہے۔إمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْعَرَبِّ أَوْزَارَهَا (محمد: ۵) اور جس کو فداء حاصل نہ ہو اس کے لئے "کتابت " کا حکم ہے۔پس غلامی کی کوئی صورت بھی موجود نہیں۔جنگی قیدیوں کا ذکر ہے جو ہر زمانہ میں پکڑے جاتے ہیں اور ہر حکومت پکڑتی ہے اس کے علاوہ بھی اسلام نے قیدیوں کی آزادی کے مختلف حکم دیئے ہیں۔قصاص قتل۔اس میں معافی کی اجازت ہے۔خواہ خطا کی دیت ہو خواہ عمد کی سزا ہو۔مگر حکومت شرارت میں دخل دے گی۔قصاص اعضاء - مار پیٹ کا یا السن بالسن وغیرہ۔ہاں جلانے کی اجازت نہیں۔نہ ہتک کرنے کی۔اس قسم کی سزا کا ہو نا امن کے لئے ضروری ہے۔مگر اس میں بھی عفو یا دیت جائز ہے اور عمد کی شرط ہے۔ہاں قاضی دباؤ اور ڈر کی صورت میں معافی