سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 307
۳۰۷ اس کے مشابہ کھیلیں بھی جو چانس گیمز کہلاتی ہیں منع ہوں گی ، ڈاڑھیاں رکھی جائیں گی ، مردوں کیلئے سونے کا زیور یا استعمال کی چیز چاندی سونے کے برتن بلکہ تالیاں بجانا بھی منع کرنا ہو گا ، جاندار کی مصوری اور ان تصویروں کی نمائش بھی ناجائز ہوگی۔اگر مسلمان اس کے لئے تیار ہوں تو پھر وہ شوق سے اسلامی آئین جاری کریں لیکن اس کے لئے اس اعلان کی ضرورت نہیں کہ وہ اسلامی حکومت جاری کریں گے کیونکہ قرآن کریم تو صاف کہتا ہے کہ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (مائدہ:۴۵) کیا مسلمان دوسری اقوام کو مجرم بنانا چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی اجازت کو چھین لیں گے اگر نہیں اور قرآنی حکم پر عمل ہو گا کہ ہر مذہب کے پیرو اپنے مذہب کے قانون کے مطابق عمل کریں گے تو پھر اس فتنہ کا دروازہ کھولنے کی کیا ضرورت ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو نقصان پہنچے۔یہ کیوں نہ کہا جائے کہ پاکستان میں مسلمانوں کے باہمی معاملات اسلام کے مطابق طے ہوں گے اور دوسرے مذاہب اگر چاہیں تو ان کے معاملات ان کے مذہب کے مطابق ورنہ ان کی کثرت رائے کے مطابق قانون بنا دیا جائے گا۔ان الفاظ میں وہی مطلب حاصل ہو گا جو اسلامی حکومت کے لفظوں میں ہے لیکن کسی کو اعتراض کرنے یا بدلہ لینے کا حق نہیں ہو گا۔غیر مذاہب میں سے جو اعلان کر دیں کہ وہ اسلامی قانون یا اس کے فلاں حصہ کی پیروی کریں گے ان پر اسلامی قانون عائد کر دیا جائے گا۔اب رہ جاتا ہے وہ حصہ قانون کا جو حکومت سے تعلق رکھتا ہے اس میں اسلامی قانون کی روشنی میں ملکی قانون بنایا جا سکتا ہے۔بہر حال اسلامی ملک میں مسلمانوں ہی کی زیادتی ہوگی۔اس طرح کوئی بھی جھگڑا پیدا نہیں ہوتا اور اسلام کا منشاء بھی پورے طور پر بغیر کسی کمی کے پورا ہو جاتا ہے۔ورنہ دشمن کو اشتعال ہو کر دوسرے مسلمانوں کو نقصان ہوتا ہے۔اور قرآن کریم فرماتا ہے۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ (انعام:١٠٩) اسلام کے اصول کے مطابق اصل مالک خدا تعالیٰ ہے اس نے سب چیزیں بنی نوع انسان کیلئے پیدا کی ہیں اس لئے ہراک کی کمائی میں دوسروں کا حق ہے وہ حق زکوۃ اور عشر اور شمس کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے جو رقوم کہ حکومت لیتی اور غرباء پر استعمال کرتی