سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 308 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 308

ہے یا پبلک کاموں پر۔۔۔ملکیت زمین کے نہایت اہم مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔"زمین کی ملکیت کے بارہ میں اسلام نے ہر گز روک نہیں ڈالی۔جو حوالے پیش کئے جاتے ہیں وہ سرکاری زمین یا عطیات سرکار یا غصب حکام کے بارہ میں ہیں۔ایک حوالہ بھی خرید کردہ یا ورثہ کی زمین کے متعلق نہیں ہے۔انصار صحابہ نے خود نصف زمین دینی چاہی مگر مہاجرین نے نہیں لی۔فتوحات کے موقع پر رسول کریم میں ہم نے فرمایا کہ یا یہ زمین مہاجرین کے پاس رہنے دو یا اپنی نصف ان کو دیدو اور یہاں سے نصف لے لو۔صاف ظاہر ہے کہ یہ معاملہ بالکل جداگانہ ہے۔یہ انصار کے شک کو دور کرنے کے لئے تھا اور اس میں کیا شک ہے کہ حکومت کا مال غرباء کے پاس جانا چاہئے۔انصار نے جواب دیا کہ ہم دونوں باتوں پر راضی نہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ نئی آمدہ زمین مهاجرین کو ہی دی جائے اور ہماری زمین کا نصف بھی۔مگر رسول کریم میں نے اسے قبول نہ کیا۔زکوۃ ، سود کی ممانعت ورثہ برتھ کنٹرول کی مساوات رکھنے کا اسلامی نظام ممانعت‘ بھاؤ بڑھانے یا گھٹانے کو ناجائز قرار دیا۔سادہ زندگی خوراک لباس، رہائش اور زیور میں۔تمام افراد کا کھانا کپڑا اور مکان حکومت کے ذمہ ہے۔حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی قانون کے غلط استعمال پر اس قانون میں جزوی تبدیلی عارضی طور پر کر دے۔چنانچہ حضرت عمر نے ایک وقت میں تین طلاق دینے والے کی تینوں طلاقوں کو تین ہی قرار دینے کا فیصلہ فرمایا حالانکہ اصل میں وہ تین نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔آپ کی غرض شریعت کی حد بندیوں کو توڑنے والے کو سزا دینا تھی۔عورت کے حقوق اولاد کے حقوق عوام کے اسلامی احکام کی خصوصیات حقوق ملازموں کے حقوق، مجرموں کے حقوق مساوات انسانی اور بین الا قوامی تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔دوسری شرائع اس بارہ میں خاموش ہیں۔اسلام کے بعض اہم مسائل جن پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ا۔زنا کی سزا رجم بہت سخت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس سزا کا