سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 297 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 297

۲۹۷ کئے گئے تھے اور انہوں نے بنگال کی مشہور بوٹی چھوٹی چندن پر تجربات کر کے اس کا الکلائیڈ معلوم کر لیا تھا۔اب چوہدری صدیق الزمان صاحب حکومت پاکستان میں آگئے ہیں ان کے مشورہ سے یا ان کی نگرانی میں اس قسم کا محکمہ پھر کھولا جاسکتا ہے۔شاید ایک لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کے خرچ سے ابتدائی لیبارٹری قائم کی جاسکتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس سے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ کا نفع حاصل ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔بعض جڑی بوٹیاں طبی طور پر اتنی مفید ہیں کہ انگریزی دوائیں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں مگر مشکل یہ ہے کہ ان کے استعمال کا طریق ایسا ہے کہ آج کل کے نزاکت پسند لوگ اس کی برداشت نہیں کر سکتے اگر الکلائیڈ اور دوسرے فعال اجزاء نکال لئے جائیں یا ایکسٹریکٹ بنائے جائیں تو یقینا نہ صرف طب میں ایک مفید اضافہ ہو گا بلکہ پاکستان کی دولت میں بھی ایک عظیم اضافہ ہو گا۔ادویہ کے علاوہ جڑی بوٹیوں میں بعض اور کیمیاوی اجزاء بھی ہیں جو مختلف صنعتوں میں بڑا کام آ سکتے ہیں۔چنانچہ بہت سی بوٹیوں کے نغدوں سے کشتے بنائے جاتے ہیں۔آخر ان کے اندر ایسے اجزاء ہیں جو کہ دھاتوں کو تحلیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔اگر ان کو الگ کر لیا جائے تو نہ صرف کشتے بنانے آسان ہو جائیں گے بلکہ اور کئی قسم کی صنعتیں جاری کرنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔" الفضل ۹۔دسمبر۷ ۱۹۴ء صفحہ ۶۔۷) اس زمانہ کے ایک مشہور اخبار روزنامہ زمیندار نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔امریکہ سے قرضہ لینا پاکستان کی آزادی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔پاکستان کی زراعت کو خطرہ فوری تدابیر کو عمل میں لانے کی اشد ضرورت۔مرزا بشیر الدین امام جماعت احمدیہ کی تقریر۔لاہور - - دسمبر - مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ نے کل شام مینارڈ ہال لاء کالج میں پاکستان اور اس کا مستقبل کے موضوع پر ایک عظیم اجتماع کے سامنے تقریر کرتے ہوئے پاکستان کی زراعت ، اقتصادیات اور معاشیات پر فصیح و بلیغ لیکچر دیا۔ملک فیروز خان نون اس اجتماع کے صدر تھے۔مرزا صاحب نے زراعت کے سلسلے میں ذرائع آب پاشی خصوصاً نہروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پچاس سال کے بعد نہروں کے خراب ہو جانے کے باعث پاکستان کی زراعت کو سخت خطرہ ہے اور اس خطرے کے