سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 254 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 254

۲۵۴ امان اللہ کا ہوا تھا۔ان تینوں نقطہ ہائے نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ہم نے اس معاملہ کو انصاف کی نظروں سے دیکھنا ہے اور انصاف کے ترازو میں تولنا ہے۔ہندوؤں کے ہاں انصاف کا یہ حال ہے کہ برابر سو سال رو مسلمانوں کو تباہ کرتے چلے آرہے ہیں اور صرف ہندو کا نام دیکھ کر ہی ملازمت میں رکھ لیتے رہے اور مسلمان کا نام آنے پر اس کی درخواست کو مسترد کر دیتے رہے۔جب درخواست پر دلارام کا نام لکھا ہوتا تو درخواست کو منظور کر لیا جاتا اور جب درخواست پر عبد الرحمن کا نام آجاتا تو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا۔اس بات کا خیال نہ رکھا جاتا کہ دلارام اور عبد الرحمن میں سے کون اہل ہے اور کون نا اہل۔۔۔کون قابل ہے اور کون نا قابل۔۔۔۔کون لائق ہے اور کون نالائق۔صرف ہندوانہ نام کی وجہ سے اسے رکھ لیا جاتا اور صرف اسلامی نام کی وجہ سے اسے رد کر دیا جاتا۔ہم نے اس کے متعلق بار بار شور مچایا ہندو لیڈروں سے اس ظلم کے انسداد کی کوشش کی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور رینگتی بھی کیسے وہ اپنی اکثریت کے نشہ میں چور تھے ، وہ اپنی حکومت کے رعب میں مدہوش تھے اور وہ اپنی طاقت کی وجہ سے بد مست تھے انہوں نے مسلمانوں کو ہر جہت سے نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں، انہوں نے مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہر ممکن سازشیں کیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں چاہئے وہ ہمیں ماریں یا دُکھ پہنچا ئیں ہمیں تو ہر قوم نے ستایا اور دکھ دیا ہے لیکن ہم نے انصاف نہیں چھوڑا جب ہندوؤں پر مسلمانوں نے ظلم کیا ہم نے ہندوؤں کا ساتھ دیا جب ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کیا تو ہم نے مسلمانوں کا ساتھ دیا جب لوگوں نے بغاوت کی ہم نے حکومت کا ساتھ دیا اور جب حکومت نے ناواجب سختی کی ہم نے رعایا کی تائید میں آواز اُٹھائی اور ہم اس طرح کرتے جائیں گے خواہ اس انصاف کی تائید میں ہمیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اُٹھانی پڑے۔" (الفضل ۲۱۔مئی ۱۹۴۷ء) حضرت فضل عمر کا مذ کورہ بالا حقائق آفریں بیان قیام پاکستان اور آزادی وطن کے حصول سے چند ماہ پہلے کا ہے تا ہم حضور کا موقف ہمیشہ ہی حق و انصاف کی حمایت اور مسلمانوں کے مجموعی مفاد کا تحفظ ہی ہو تا تھا۔حصول آزادی کے لئے ہندو کانگریس کی طرف سے جب ملک گیر