سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 248
۲۴۸ مسائل کے متعلق تھا تمہیں اس معاملہ میں کسی فریق کی طرف داری کی کیا ضرورت تھی؟" احرار کی طرف سے ہندو وکلاء مفت پیش ہوتے رہے۔میں نے اس بارہ میں پنڈت نہرو کے پاس اپنا آدمی بھیجا کہ آپ لوگوں کی احرار کے ساتھ ہمدردی کس بناء پر ہے اور یہ طرفداری کیوں کی جارہی ہے۔انہوں نے ہنس کر کہا سیاسیات میں ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔اب جن لوگوں کی ذہنیت اس قسم کی ہو ان سے بھلا کیا امید کی جاسکتی ہے۔" یہ جو کچھ آج کل ہو رہا ہے یہ سب گاندھی جی ، پنڈت نہرو اور مسٹر پٹیل کے ہاتھوں سے رکھی ہوئی بنیادوں پر ہو رہا ہے اس کے ساتھ انگریزوں کا بھی اس میں ہاتھ تھا۔ان کو بھی بار بار اس امر کے متعلق توجہ دلائی گئی کہ ہندوستان کے کروڑوں کروڑ مسلمانوں کے حقوق کو تلف کیا جا رہا ہے جو ٹھیک نہیں ہے لیکن انہوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی یہ سب کچھ ہوتا رہا اور باوجود یہ جاننے کے ہو تا رہا کہ مسلمانوں کے حقوق تلف ہو رہے ہیں اور باوجود اس علم کے کہ مسلمانوں سے نا انصافی ہو رہی ہے مسلمان ایک مدت تک ان باتوں کو برداشت کرتے رہے مگر جب یہ پانی سر سے گزرنے لگا تو وہ اٹھے اور انہوں نے اپنے نمبے اور تلخ تجربہ کے بعد جب یہ سمجھ لیا کہ ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے حقوق خطرے میں ہیں تو انہوں نے اپنے حقوق کی حفاظت اور آرام اور چین کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لئے ایک علاقہ کا مطالبہ پیش کر دیا۔کیا وہ یہ مطالبہ نہ کرتے اور ہندوؤں کی ابدی غلامی میں رہنے کے لئے تیار ہو جاتے کیا وہ اتنی ٹھوکروں کے باوجود بھی نہ جاگتے۔پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمان اتنے طویل اور تلخ تجربات کے بعد ہندوؤں پر اعتبار کر سکتے تھے۔ایک دو باتیں ہوتیں تو نظر انداز کی جا سکتی تھیں ، ایک دو واقعات ہوتے تو بھلائے جاسکتے تھے ، ایک دو چوٹیں ہوتیں تو ان کو نظر انداز کیا جا سکتا تھا ایک آدھ صوبہ میں مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا ہو تا تو اس کو بھی بھلایا جا سکتا تھا لیکن متواتر اور ہر سو سال سے ہر گاؤں میں، ہر شہر میں ہر ضلع میں اور ہر صوبہ میں ہر محکمہ میں ہر شعبہ میں مسلمانوں کو دکھ دیا گیا ان کے حقوق کو تلف کیا گیا اور ان کے جذبات کو مجروح کیا گیا اور ان کے ساتھ وہ سلوک روارکھا گیا جو زر خرید غلام کے ساتھ بھی کوئی انصاف