سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 241 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 241

امم قادیان کا مذبح گرایا گیا اور ایسے حالات میں گرایا گیا کہ کوئی انصاف پسند انسان اس کو جائز نہیں قرار دے سکتا۔ایک طرف ظلم تعدی بغاوت اور شرارت کا مظاہرہ تھا تو دوسری طرف نرمی ، عفو ، امن پسندی اور شرافت کا مظاہرہ تھا۔پولیس کی موجودگی میں مدیح گرایا گیا۔ایک سب انسپکٹر اور کئی کانسٹیبل وہاں موجود تھے۔انہوں نے ان حملہ آوروں کو روکا نہیں بلکہ کھڑے دیکھتے رہے اور پھر مقدمہ میں ایک شخص بھی مجرموں میں سے اپنے کیفر کردار کو نہیں پہنچا۔دوسری طرف احمدیوں نے نہایت بردباری اور امن پسندی کا ثبوت دیا اور باوجو د طاقت کے اس خوف کی وجہ سے ان شریروں کا مقابلہ نہ کیا کہ کہیں وہ امن شکنی کا موجب نہ ہو جائیں اور اسی یقین کی وجہ سے ہاتھ نہ اٹھایا کہ حکومت ان مفسدوں کو خود سزا دے گی لیکن ان کا اعتماد بے محل ثابت ہوا۔حکومت نے ایک مفسد کو بھی سزا نہیں دی۔میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ علاقہ کے تھانہ دار اور پولیس کی موجودگی میں ایک مجرم کی بھی شناخت صحیح طور پر نہ ہو سکی ہو۔پس سب مجرموں کا چھوٹ جانا بتاتا ہے کہ یا تو اصل مجرموں کو پکڑا ہی نہ گیا تھا۔یا یہ کہ مقدمہ کو جان بوجھ کر اس طرح چلایا گیا تھا کہ وہ لوگ بری ہو جائیں۔تا کہ دنیا یہ خیال کرلے کہ گورنمنٹ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اور سکھ بھی گورنمنٹ سے ناراض نہ ہوں۔اس وقت ایک ہی سوال حکام کے سامنے تھا اور وہ یہ تھا کہ سکھوں کو دسمبر ۱۹۲۹ء کی کانگریس کے اجلاس میں شامل ہونے سے ہر قیمت پر روکا جائے لیکن اگر حکومت و فادار رعایا کے حقوق کو تلف کر کے اس قسم کی کارروائی کرے تو اسے کب یہ امید ہو سکتی ہے کہ آئندہ مشکلات کے وقت میں اس کی تائید کی جائے گی۔"مگر میں نے پھر بھی کانگرس کی شورش کے وقت میں ایسا کام کیا ہے کہ کوئی انجمن یا فرد اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا۔اگر میں اس وقت الگ رہتا تو یقینا ملک میں شورش بہت زیادہ ترقی کر جاتی اور یہ صرف میری ہی راہنمائی تھی جس کے نتیجہ میں دوسری اقوام کو بھی جرات ہوئی اور ان میں سے کئی کانگرس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئیں۔لیکن باوجود اس کے مذیح کے معاملہ میں حکومت ہمارے احساسات کے ساتھ کھیلتی رہی ہے۔اس نے جان بوجھ کر اس معاملہ کو اس قدر لمبا کیا ہے کہ کوئی شخص اسے