سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 236
FFY خلاف تھی۔حضور نے ملک بھر کے معزز اہل الرائے حضرات کو ایک خط کے ذریعہ اس فساد و قانون شکنی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔میں امید کرتا ہوں کہ اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ مسلمان اپنے ہمسائیوں کے احساسات کا جائز احترام کرنے کو تیار ہیں اس امر کو ترجیح دی جائے گی کہ ان کے ہمسایوں کو نا واجب تکلیف نہ ہو اور ایسے حالات سے ملک کو بچایا جائے جو اس کے امن کو برباد کرنے والے اور اس کی آزادی کو نقصان پہنچانے والے ہوں۔اس جابرانہ رویہ کو دیکھتے ہوئے جو قادیان کے مذبح کے انہدام میں اختیار کیا گیا ہے اور جو مسلمانوں کو کھلا چیلنج ہے اور اس رویہ کو دیکھتے ہوئے جو بعض ہندو اخبارات نے اس موقع پر اختیار کیا ہے میرے جذبات جس قدر متاثر ہیں میں نے اس کا اظہار نہیں ہونے دیا تاکہ میری اصل غرض فوت نہ ہو جائے مگر میں امید کرتا ہوں کہ باوجود اس کے آپ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کریں گے کہ ایک زندہ قوم اپنی آئندہ نسل کو روحانی و اخلاقی موت میں پڑنے کے خطرہ کو دیکھ کر انتہائی جدوجہد کرنے کے بغیر خاموش نہیں ہوگی۔" (الفضل ۲۰۔ستمبر ۱۹۲۹ء) اس خط کے جواب میں سردار جو گندر سنگھ ، سردار تارا سنگھ بھائی پر مانند صاحب دیا نند کالج جالندھر ایک ایم ایل مہاسبھا کے سیکرٹری اور بعض مسلمان لیڈروں کے خطوط موصول ہوئے۔(الفضل ۲۲۔اکتوبر ۱۹۲۹ء) حضور نے سکھوں کی اشتعال انگیزی اور فساد کے مقابلہ میں عام سیاسی بیان بازوں کے بر عکس نهایت توازن و اعتدال سے اس معاملہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا۔میں ہر وہ طریق اختیار کرنے کیلئے تیار ہوں جو ہماری عزت کو قائم رکھ سکے، ہماری ضرورت پوری کر سکے اور ان کے احساسات (ہندو پڑوسیوں کے۔ناقل ) کا خیال رکھا جا سکے غرض ہم ان کے احساسات کو زیادہ سے زیادہ مد نظر رکھیں گے۔۔۔۔۔۔باوجود اس کے کہ مقامی ہندوؤں کے تعلقات ہم سے اچھے نہ تھے وہ جھوٹی باتیں ہماری طرف منسوب کر کے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے میں نے ہمیشہ ان کا خیال رکھا اور جب ایک گذشتہ سال مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ سیاسی تعلقات اچھے نہ ہونے