سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 220 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 220

۲۲۰ ہو گا۔" " الفضل ۹۔اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۷-۸)۔ملکی حالات اور جدوجہد آزادی کے مبصر اس امر پر متفق ہیں کہ نہرو رپورٹ کے بعد ہی مسلمانوں کی تحریک آزادی کو تقویت حاصل ہوئی۔اسی طرح یہ امر بھی تاریخی حقائق و واقعات سے ثابت ہے کہ اس بد نام زمانہ رپورٹ کی باقاعدہ علمی و تحقیقی رنگ میں مخالفت سب سے پہلے حضرت امام جماعت احمدیہ نے کی اور اس پر ایک مدلل و مبسوط کتاب تصنیف کر کے اسے صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ اس کا انگریزی ترجمہ انگلستان کے ممبران پارلیمنٹ اور ارباب حل و عقد تک ایک باقاعدہ سکیم اور تنظیم کے ساتھ پہنچایا گیا۔اس رپورٹ کی نمائندہ حیثیت واضح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ہندو مسلمان بڑھتے ہوئے فسادات کو دیکھ کر نیشنل کانگریس نے ایک ریزولیوشن پاس کیا تھا کہ ورکنگ کمیٹی ہندو اور مسلمان لیڈروں سے مشورہ کر کے ایسی تجاویز کرے جن کے ذریعے سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو قابل افسوس تنازعات ہو رہے ہیں دور کئے جا سکیں۔(مگر) یہ کمیٹی (جس نے نہرو رپورٹ مرتب کی ہر گز تمام ہندوستان کی نمائندہ نہ تھی۔چند آدمی اپنی مرضی سے ایک جگہ جمع ہو گئے تھے۔۔۔۔۔نہ مختلف صوبوں کی نمائندگی اس میں ہوئی تھی نہ مختلف جماعتوں کی۔مثال کے طور پر میں اپنی ہی جماعت کو لیتا ہوں۔ہماری جماعت سے شروع سے لیکر آخر تک کسی نے نہیں پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے۔حالانکہ ہم تعداد میں کسی قدر کم بھی ہوں مگر پارسیوں سے زیادہ ہیں اور آل انڈیا حیثیت رکھتے ہیں۔آل انڈیا مسلم لیگ کا وہ حصہ جو مسٹر جناح کی صدارت میں کام کرتا ہے اس کی نیابت بھی اس کمیٹی کو حاصل نہ تھی اور اس طرح یہ کمیٹی مسلمانوں کی نمائندگی سے بالکل خالی تھی۔۔۔۔۔۔(اس لئے نہ آل انڈیا کانفرنس ہندوستان کی نمائندہ تھی اور نہ نہرو کمیٹی مسلمانوں کے کسی فریق کی ہی نمائندہ تھی ایک خاص خیال کے لوگوں کی ایک کانفرنس ہوئی اور اس میں سے بھی مسلمانوں کی نیابت کو عملاً خارج کر کے ایک کمیٹی مقرر کر دی گئی جس کی رپورٹ اب ہندوستان کے نمائندوں کی رپورٹ کے نام سے مشہور کی جارہی ہے۔۔۔۔جب قانون اساسی کے بناتے ہوئے مسلمانوں کی نیابت کا خیال نہیں رکھا گیا تو آئندہ چھوٹے چھوٹے قوانین بناتے ہوئے مسلمانوں کے احساسات کا خیال