سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 205
۲۰۵ اس وجہ سے اگر یہ تقسیم قائم رہی تو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلے گا کہ مالدار سکھ مغربی پنجاب سے جاملیں گے اور اگر مسلمانوں کا رویہ ان سے اچھا رہا اور خدا کرے اچھا رہے تو ان کی ہمدردی مشرقی سکھ سے بالکل جاتی رہے گی اور کوئی مالی امداد وہ اسے نہ دیں گے اور مشرقی علاقے کا سکھ جو پہلے ہی بہت غریب ہے اپنی تعلیمی اور تہذیبی انجمنوں کو چلا نہ سکے گا۔دوسرے اسے یہ نقصان ہو گا کہ سکھ قوم مشرقی حصہ میں اقتصادی طور پر اپنا سر اونچا نہ رکھ سکے گی۔تیسرے اس سے یہ نقص پیدا ہو گا کہ ہوشیار پور فیروز پور جالندھر اور لدھیانہ کے سکھ پہلے سے بھی زیادہ غیر ملکوں کی طرف جانے کیلئے مجبور ہونگے اور مشرقی پنجاب میں سکھوں کی آبادی روز بروز گرتی چلی جائے گی اور شاید چند سال میں ہی مشرقی پنجاب میں بھی سکھ چودہ فیصد ی پر ہی آجائیں۔پانچویں اس امر کا بھی خطرہ ہے کہ اس بٹوارہ کی وجہ سے مغربی پنجاب کی حکومت یہ فیصلہ کرے کہ وہ زمین جو مشرقی پنجاب کے لوگوں کو مغربی پنجاب میں جنگی خدمات کی وجہ سے دی گئی ہے وہ اس۔بناء پر ضبط کر لی جائے کہ اب خدمات کا صلہ دینا نٹے ہندو مرکز کے ذمہ ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ جب وہ الگ الگ ہو گئے ہیں تو اس خدمت کا صلہ جو در حقیقت مرکزی خدمت تھی وہ صوبہ دے جس کا وہ شخص سیاسی باشندہ بھی نہیں ہے۔"زمیندارہ کے نقصان کے علاوہ کہ سکھوں کی دو تہائی جائیداد مغربی پنجاب میں ہی رہ جائے گی ایک اور بہت بڑا خطرہ بھی ہے اور وہ یہ کہ جو سکھ تجارت کرتے ہیں ان میں سے اکثر حصہ کی تجارت مغربی پنجاب سے وابستہ ہے۔سکھوں کی تجارت جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں پنجاب میں، راولپنڈی ، کوئٹہ ، جہلم اور بلوچستان سے وابستہ ہے اور تجارت کی ترقی کیلئے آبادی کی مدد بھی ضروری ہوتی ہے۔جب سکھوں کی دلچپسی مغربی پنجاب اور اسلامی علاقوں سے کم ہو گی تو لازما اس تجارت کو بھی نقصان پہنچے گا۔سوائے سردار بلدیو سنگھ صاحب کے جنگی تجارت بہار سے وابستہ ہے۔کو نسا بڑا سکھ تاجر ہے جو مشرقی پنجاب یا ہندوستان میں وسیع تجارت رکھتا ہو۔ساری کشمیر کی تجارت جو راولپنڈی کے راستہ سے ہوتی ہے یا جہلم کے ذریعے سے ہوتی ہے سکھوں کے پاس ہے۔ایران سے آنے والا مال اکثر سکھوں کے ہاتھ سے ہندوستان کی طرف آتا ہے اور اس تجارت کی قیمت کروڑوں تک پہنچتی ہے۔اگر یہ تاجر موجودہ افراتفری میں اپنی