سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 11 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 11

پیشگوئی کے پوری طرح پورے ہونے میں تو وقت ہے مگر جس حد تک یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے وہ بھی حیرت انگیز ہے۔اس وقت قادیان کی آبادی ساڑھے چار ہزار یعنی دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔فصیل کی جگہ پر مکانات بن کر قصبے نے باہر کی طرف پھیلنا شروع کر دیا ہے اور اس وقت قصبے کی پرانی آبادی سے قریباً ایک میل تک نئی عمارات بن چکی ہیں اور بڑی بڑی پختہ عمارت اور کھلی سڑکوں نے ایک چھوٹے سے قصبے کو ایک شہر کی حیثیت دے دی ہے۔بازار نہایت وسیع ہو گئے ہیں اور ہزاروں کا سودا انسان جس وقت چاہے خرید سکتا ہے۔ایک پرائمری سکوں کی بجائے دو ہائی سکول بن گئے ہیں جن میں سے ایک ہندوؤں کا سکول ہے۔ایک گرل سکول ہے اور ایک علوم دینیہ کا کالج ہے۔ڈاک خانہ جس میں ایک ہفتہ میں دو دفعہ ڈاک آتی تھی اور سکول کا مدرس الاؤنس لیکر اس کا کام کر دیا کرتا تھا۔اب اس میں سات آٹھ آدمی سارا دن کام کرتے ہیں تب جا کر کام ختم ہوتا ہے۔اور تار کا انتظام ہو رہا ہے ایک ہفتے میں دوبار نکلنے والا اخبار شائع ہوتا ہے۔دو ہفتہ وار اردو اور ایک ہفتہ وار انگریزی اخبار شائع ہوتے ہیں۔ایک پندرہ روزہ اخبار شائع ہوتا ہے اور دو ماہوار رسالے شائع ہوتے ہیں۔پانچ پریس جاری ہیں۔جن میں سے مشین پریس ہے۔بہت سی کتب ہر سال شائع ہوتی ہیں۔بڑے بڑے شہروں کی ڈاک ادھر ادھر ہو جائے تو ہو جائے مگر قادیان کا نام لکھ کر خط ڈالیں تو سیدھا یہیں پہنچتا ہے۔غرض نہایت مخالف حالات میں قادیان نے وہ ترقی کی ہے جس کی مثال دنیا کے پردے پر کسی جگہ بھی نہیں مل سکتی۔اقتصادی طور پر شہروں کی ترقیات کیلئے جو اصول مقرر ہیں ان سب کے علی الرغم اس نے ترقی حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے کلام کی صداقت ظاہر کی ہے۔جس سے وہ لوگ جو قادیان کی پہلی حالت اور اس کے مقام کو جانتے ہیں خواہ وہ غیر مذاہب کے ہی کیوں نہ ہوں اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بیشک یہ غیر معمولی اتفاق ہے۔مگر افسوس لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا سب غیر معمولی اتفاق مرزا صاحب ہی کے ہاتھ پر جمع ہو جاتے ہیں۔" ( دعوۃ الا میر صفحه ۲۴۵ تا ۷ ۲۴) اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے ایک اور موقع پر حضور فرماتے ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میری صداقت کے خدا تعالیٰ نے لاکھوں