سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 129
۱۲۹ مشتمل ہو والے بچوں کے لئے یا یوں سمجھ لیجئے کہ پہلا سلسلہ ۱۶ سے کم عمر والے بچوں کے لئے ہو گا۔دوسرا سلسلہ انٹرنس پاس یا سولہ سترہ سال تک کے بچوں کے لئے ہو گا۔اور تیسرا سلسلہ اس سے اوپر عمر والوں اور پختہ کار لوگوں کے لئے ہو گا۔یہ کتابیں ایسی سلیس اردو میں لکھی جائیں گی کہ ایک ادنیٰ سے ادنی اردو لکھنے والا بھی اسے سمجھ سکے۔اس طرح میری رائے یہ ہے کہ یہ کتابیں اس طرز پر لکھی جائیں کہ پہلی کتاب ۵۰ صفحات کی ہو گی۔دوسری ۸۰ صفحات کی ہو اور تیسری کتاب اوسطاً سوا سو صفحات پر مشتمل ہو۔اور پھر ہر وہ کتاب جو سولہ سترہ سال تک کے افراد کے لئے ہو وہ سولہ ہزار الفاظ پر اور ہر وہ کتاب جو اس سے اوپر والے افراد کے لئے ہو۔وہ ۳۵ ہزار الفاظ پر اور اس لئے کہ لکھنے والے ان کتابوں کو غور سے لکھیں اور مطالعہ کر کے لکھیں ان کے لئے ایک رقم بطور انعام مقرر کی جائے گی۔تاکہ وہ اس علم کی کتابیں مطالعہ کر کے مضمون لکھیں اور ایسی سلیس اردو میں لکھیں کہ ہر معمولی خواندہ اسے سمجھ سکے۔میرا خیال ہے کہ ہر اس کتاب کے لئے جو پچاس صفحات کی ہو پچاس روپے سے ایک سو روپیہ تک کا انعام رکھا جائے۔ان کتب کی خصوصیات یہ ہوں گی کہ۔ا۔ان میں تمام قسم کے علوم کے متعلق باتیں ہوں گی۔مشتمل ہو۔یہ سلیس اردو میں ہوں گے جسے ایک معمولی اردو جانے والا بھی سمجھ سکے۔۔ان میں کسی قسم کی اصطلاح استعمال نہیں کی جائے گی۔ان اصطلاحوں کی وجہ سے مضمون سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن چونکہ کبھی کبھی بعض شوقین لوگ علماء کی مجلس میں بھی چلے جائیں گے اور ان کی باتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔اس لئے حاشیہ میں ان اصطلاحات کا بھی ذکر کر دیا جائے گا۔اس طرح اسے یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ برکلے اور کانٹ نے کیا کہا ہے۔بلکہ کتاب کے حاشیہ میں ہی یہ لکھا ہوا ہو گا کہ برکلے اور کانٹ کا یہ مقولہ ہے یا یہ فلاں کتاب میں لکھا ہوا ہے۔غرض جب بھی وہ چاہے اپنے عام علم کو اصطلاحی علم میں بدل لے۔یا سیدھی سادی اردو میں پڑھ لے۔غرض ہر صفحہ کے نیچے ہر ایک امر کا حوالہ دیا جائے گا تا جس کو شوق ہو تحقیق کر سکے۔اس سلسلہ کی کئی کڑیاں ہوں گی۔اول: بچوں کے لئے یعنی ابتدائی تعلیم سے مڈل تک کے بچوں کے لئے مگر اس سے وہ