سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 114 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 114

۱۱۴ وہ مقام لیا ہے جو قطعی طور پر آبادی اور زراعت کے ناقابل سمجھا جاتا تھا تاکہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ پاکستان نے احمدیوں پر احسان کیا ہے۔مگر کہنے والوں نے پھر بھی کہہ دیا کہ کروڑوں کروڑ کی جائیداد پاکستان نے احمدیوں کو دے دی ہے۔یہ زمین ہم نے دس روپیہ فی ایکٹر پر خریدی ہے اور یہ زمین ایسی ہے جو بالکل بنجر اور غیر آباد ہے اور صدیوں سے بنجر اور غیر آباد چلی آتی ہے یہاں کوئی کھیتی نہیں ہو سکتی کوئی سبزہ دکھائی نہیں دیتا کوئی نہر اس زمین کو نہیں لگتی۔اس کے مقابلہ میں میں نے خود مظفر گڑھ میں نہروالی زمین آٹھ روپیہ ایکٹر پر خریدی تھی بلکہ اسی مظفر گڑھ میں ایک لاکھ ایکڑ زمین میاں شاہ نواز صاحب نے آٹھ آنے ایکڑ پر خریدی تھی جس سے بعد میں انہوں نے بہت نفع کمایا۔یہ زمین ہم نے پہاڑی ٹیلوں کے درمیان اس لئے خریدی ہے کہ میری رویا اس زمین کے متعلق تھی۔یہ رویا دسمبر ۱۹۴۱ء میں میں نے دیکھی تھی اور ۲۱۔دسمبر ۱۹۴۱ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔اب تک دس ہزار آدمی یہ رویا پڑھ چکے ہیں اور گورنمنٹ کے ریکارڈ میں بھی یہ رویا موجود ہے۔میں نے اس رویا میں دیکھا کہ قادیان پر حملہ ہوا ہے اور ہر قسم کے ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں مگر مقابلہ کے بعد دشمن غالب آگیا اور ہمیں وہ مقام چھوڑنا پڑا۔باہر نکل کر ہم حیران ہیں کہ کس جگہ جائیں اور کہاں جا کر اپنی حفاظت کا سامان کریں۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا میں ایک جگہ بتاتا ہوں آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں اٹلی کے ایک پادری نے گر جا بنایا ہوا ہے اور ساتھ اس نے بعض عمارتیں بھی بنائی ہوئی ہیں جنہیں وہ کرایہ پر مسافروں کو دیتا ہے وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔میں ابھی متردد ہی تھا کہ اس جگہ رہائش اختیار کی جائے یا نہ کی جائے کہ ایک شخص نے کہا آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔اس نے سمجھا کہ کہیں میں رہائش سے اس لئے انکار نہ کر دوں کہ یہاں مسجد نہیں۔چنانچہ میں نے کہا اچھا مجھے مسجد دکھاؤ اس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی ، چٹائیاں اور دریاں وغیرہ بھی بچھی ہوئی تھیں اور امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلی بچھا ہوا تھا۔اس پر میں خوش ہوا اور میں نے کہا لو اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسجد بھی دے دی ہے اب ہم اس جگہ رہیں گے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ باہر سے آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ بڑی تباہی ہے بڑی تباہی ہے اور جالندھر کا