سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 59 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 59

۵۹ میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں۔ہاں وہ لوگ جو آنوں بہانوں سے اجازت لے کر بھاگنا چاہتے ہیں وہ یقیناً کمزور ہیں۔خدا تعالیٰ ان کے گناہ بخشے اور نیچے ایمان کی حالت میں جان دینے کی توفیق دے۔اے عزیزو! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر وقت تمہارے ساتھ رہے اور مجھے جب تک زندہ ہوں بچے طور پر اور اخلاص سے تمہاری خدمت کی توفیق بخشے اور تم کو مومنوں والے اخلاص اور بہادری سے میری رفاقت کی توفیق بخشے۔خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور آسمان کی آنکھ تم میں سے ہر مرد اور ہر عورت اور ہر بچہ کو سچا مخلص دیکھے اور خدا تعالیٰ میری اولاد کو بھی اخلاص اور بہادری سے سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق بخشے۔آمین"۔الفضل ۸ - جون ۱۹۴۸ء صفحہ ۳) حضرت مصلح موعود کے اس بیان کا ایک ایک لفظ اس عزم و یقین کا آئینہ دار ہے جو خاصان خدا کا حصہ ہے۔اس پیغام میں کہیں بھی ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کے کپتان کے جذبات نہیں ہیں بلکہ اس کے بر عکس عزم و ہمت و جواں مردی اور تو کل د ایمان کے جلوے یوں ضوفگن ہیں جیسے سورج سے نکلنے والی کرنیں اور یوں نظر آتا ہے کہ آپ ایک نئے دور کا آغاز فرما رہے ہیں۔اور وقتی مشکلات کو غیر متوقع مصیبت یا جماعت کی بربادی کا پیش خیمہ نہیں بلکہ ایسی قربانیاں اور نمونہ پیش کرنے کا باعث قرار دے رہے ہیں جس پر پہلی قوموں کے سر خم ہو جائیں اور آئندہ نسلوں کیلئے باعث فخر ہوں۔یہ پیغام حضور نے ۳۰۔اگست کو جاری فرمایا اس کے بعد انتہائی مخالف حالات کے باوجود خدا تعالیٰ کی غیر معمولی حفاظت و نصرت کے جلو میں ۳۱۔اگست کو لاہور پہنچ گئے۔جہاں آپ نے امیر جماعت احمد یہ لاہور حضرت شیخ بشیر احمد صاحب کے مکان پر قیام فرمایا اور اسی وجہ سے یہ جگہ وقتی طور پر پاکستان و بیرون پاکستان کی جماعتوں کا مرکز بن گئی۔اس کے جلد بعد ہی حضور رتن باغ نزد میوہسپتال میں منتقل ہو گئے اور اس کے بالمقابل جو دھامل بلڈنگ میں جماعتی دفاتر قائم ہو گئے اور لاہو ر جماعت کے نئے مرکز (ربوہ) کے قیام تک ہنگامی حالات میں عالمی جماعت احمدیہ کا مرکز بنا رہا۔حضرت فضل عمر نے ہنگامی حالات سے عہدہ بر آہونے کیلئے یکم ستمبر کو یعنی قادیان سے لاہور پہنچنے کے بعد پہلے دن ہی جو دھامل بلڈنگ میں ایک غیر معمولی اجلاس میں صدرانجمن احمد یہ پاکستان کی بنیاد رکھی۔