سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 46 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 46

۴۶ کرے گی جس کی حکومت میں وہ علاقہ ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو معاہدہ ہو اس کی پابندی کی جائے لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر بار بار توجہ دلانے کے بعد بھی ہندوستان یونین مسلمان پناہ گزینوں کے بڑے بڑے کیمپوں کو ریفیوجی کیمپ قرار نہیں دیتی تو پاکستان کی حکومت کیوں مشرقی پنجاب کے پناہ گزینوں کے نئے مقامات کو ریفیوجی کیمپ قرار دے رہی ہے۔حال ہی میں پاکستان گورنمنٹ نے پانچ نئے ریفیوجی کیمپ مقرر کئے جانے کا اعلان کیا۔کیا وہ اس کے مقابلہ میں ہندوستان یونین سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ تم بھی ہماری مرضی کے مطابق نئے کیمپ بناؤ۔ہمیں موثق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ حال ہی میں ہندوستان یونین نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ریفیوجی کیمپ بنانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں صرف پانچ ہزار پناہ گزین ہیں۔پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ ہندوستان یونین سے کہے کہ اگر تم ڈیرہ اسماعیل خان میں کیمپ بنوانا چاہتے ہو تو قادیان میں بھی کیمپ بناؤ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستانی حکومت کا رعب کم ہوتا جائے گا اور ہندوستان یونین کے مطالبات بڑھتے جائیں گے اور مسلمانوں کے حقوق پامال ہوتے چلے جائیں گے۔تازہ آفیشل رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک سولہ لاکھ چھیالیس ہزار سات سو پچاس مسلمان مشرقی پنجاب کے کیمپوں میں پڑے ہیں۔اس کے مقابلہ میں صرف سات لاکھ سینتالیس ہزار دو سو بہتر غیر مسلم مغربی پنجاب میں ہیں۔ہمارے حساب سے تو یہ اندازہ بھی غلط ہے۔مسلمان ساڑھے سولہ لاکھ نہیں۔۲۵-۲۶لاکھ کے قریب مشرقی پنجاب میں پڑے ہیں اور خطرہ ہے کہ اپنے حقوق کو استقلال کے ساتھ نہ مانگنے کے نتیجہ میں یہ سات لاکھ غیر مسلم بھی جلدی سے ادھر نکل جائے گا اور ۲۵لاکھ مسلمانوں میں سے بمشکل ایک دو لاکھ ادھر پہنچے گا یا کوئی اتفاقی بیچ کر نکلا تو نکلا اور نہ جو کچھ سکھ جتھے اور سکھ ملٹری اور پولیس ان سے کر رہی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی امیدان کے بچنے کی نظر نہیں آتی۔بعض چھوٹے افسر یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ مغربی پنجاب اتنے پناہ گزینوں کو سنبھال نہیں سکتا۔پس جتنے مسلمان ادھر مرتے ہیں اس سے آبادی کا کام آسان ہو رہا ہے۔یہ ایک نہایت ہی خطر ناک خیال ہے۔ہمیں یقین ہے۔مغربی پنجاب کی حکومت کے اعلیٰ حکام اور وزراء کا یہ خیال نہیں مگر اس قسم کا خیال چند آدمیوں کے