سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 517 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 517

۵۱۷ ہے۔اور اگر قوت حاصل ہے ، افسر ہے ، ہیڈ ماسٹر ہے ، سپرنٹنڈنٹ ہے اور اس طرح بعض دوسرے لوگ ہیں جن کو اوروں پر تصرف حاصل ہے تو اس تصرف کو اتنا پیارا اور میٹھا بنا دیں کہ دوسروں کو ذرا بھی گراں نہ گذرے۔پھر یہ بھی نہیں چاہئے کہ آج ایک سے لڑائی ہوئی تو دوسرے دن اس کے خلاف محض جھوٹی سازش شروع کر دی۔اگر کسی سے لڑائی ہوئی ہے اور اسے معاف نہیں کر سکتے تو اختلاف کو اس کی حد کے اندر رکھو۔یہی بات خدا کی بادشاہت میں ہمیں دکھائی دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی تسبیح کر رہی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ تم میں سے جس کو جتنی بادشاہت دے اسے چاہئے کہ اس میں اس کی نقل کرے۔اگر ہندوستان کا بادشاہ بنا دیا جائے تو ہندو سکھ اور مسلمان میں کوئی تمیز نہ کرو غریب و امیر کا خیال نہ کرو، ہندی کو اڑا کر اردو زبر دستی جاری کرنے کے منصوبے نہ کر دیا ایک تمدن کی جگہ دو سمرا تمدن ایک مذہب کی جگہ دوسرا مذ ہب جبرا قائم کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ بلکہ جس طرح خدا تعالی کر رہا ہے تم بھی اسی طرح کرو۔پھر جو وزارت پر ہو اسے چاہئے کہ اپنے دائرہ حکومت میں اللہ تعالیٰ کی جتنی نقل کر سکتا ہے کرے۔اس سے نیچے اتر کر سیکرٹری اور ڈائریکٹر اور دوسرے افسر سب جس قدر ممکن ہو اللہ تعالیٰ کی ملکیت کی نقل کریں۔” دوسری صفت یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قدوس ہے۔دنیا اسے پاک قرار دیتی ہے۔ملکیت کی تسبیح اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ظاہر معاملہ صحیح ہو۔لیکن قدوسیت کا یہ مطلب ہے کہ دل میں بھی معاملہ صحیح ہو۔یعنی منافقت سے نہ ہو۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص دوسرے کے پاس جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ آئیے تشریف رکھئے ، آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی لیکن دل میں اس کے متعلق یہ ارادہ رکھتا ہے کہ موقع ملے تو اسے تباہ کر دوں۔یہ بات قدوسیت کے خلاف ہے۔قدوسیت یہ ہے کہ ظاہر و باطن دونوں میں پاکیزگی ہو۔اللہ تعالیٰ قدوس ہے وہ فریب منافقت مداہنت اور ٹھگی نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ لوگ گمراہی سے بچ جائیں۔یہ نہیں کہ بظاہر اچھا سلوک کرے لیکن دراصل سزا دینے کیلئے موقع کا منتظر رہے۔وہ جب سزا نہیں دیتا تو چاہتا بھی یہی ہے کہ نہ دے بلکہ جب دیتا ہے اس وقت بھی چاہتا یہی ہے کہ نہ دے۔لیکن سزا پانے والا اپنے اعمال سے اسے سزا دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔پس دیکھو 1,