سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 501 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 501

۵۰۱ فرماتے ہیں۔"پیغامی کس زور سے اٹھے کس شان سے اٹھے کن زبر دست ارادوں سے اٹھے۔کیا کیا تدبیریں تھیں جو انہوں نے ہمیں زیر کرنے کیلئے اختیار نہ کیں اور کیا کیا منصوبے تھے جو انہوں نے ہمیں ذلیل کرنے کے لئے نہ باندھے جو شوکت اور جوڑ تبہ اس وقت ان لوگوں کو جماعت میں حاصل تھا آج جو بعد میں آنے والے ہیں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔وہ شاید یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ہی غالب رہے ہیں اور وہ ہمیشہ ہی مغلوب رہے ہیں حالانکہ ان ایام میں ان کو اتنا رتبہ اور زور حاصل تھا کہ بہت سے لوگوں کے دل ڈرتے تھے کہ نہ معلوم کیا ہو جائے گا اور بعض تو یہ خیال کرتے تھے کہ شاید وہ ہمیں قادیان سے ہی نکال دیں گے۔دنیوی سامان جس قدر ہوا کرتے ہیں وہ سب ان کے ساتھ تھے۔صدر انجمن کا نظام ان کے قبضہ میں تھا خزانہ ان کے قبضہ میں تھار سالے اور اخبار ان کے قبضے میں تھے یعنی وہ جو انجمن کے ماتحت تھے بیرونی دنیا میں انہی کا نام روشن تھا جماعت پر ان کو اقتدار حاصل تھا اور بہت سے لوگ اس دُبُدھا اور شک میں پڑے ہوئے تھے کہ کیا اتنے بڑے لوگ بھی غلطی کر سکتے ہیں ؟ پھر وہ ایک عرصہ سے اپنے متعلق جماعت میں پروپیگنڈا کر رہے تھے اور ”پیغام صلح اسی غرض کے لئے انہوں نے جاری کیا ہوا تھا۔غرض جماعت میں ایک ہیجان پیدا تھا اور وہ خود دنیوی سامانوں کی کثرت کی وجہ سے اس قدر مغرور تھے کہ انہوں نے ایک دفعہ لکھا کہ ابھی تک تو جماعت کے بیسویں حصہ نے بھی بیعت نہیں کی۔گویا خود ان کے اقرار کے مطابق جماعت کے انیس حصے ان کے ساتھ تھے اور صرف ایک حصہ ہمارے ساتھ تھا۔لیکن جب کہ جماعت کی تمام اہم چیزیں انہی کے قبضہ میں تھیں جب کہ جماعت کے تمام اہم ادار ے انہی کے پاس تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور کرم کے ساتھ مجھ پر الهام نازل کیا اور فرمایا کہ "کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور میں نے یہ الہام ای وقت اشتہارات کے ذریعہ شائع کر دیا جو آج تک دوستوں کے پاس موجود ہونگے۔۔۔اس طرح اس نے مجھے الہاما فرمایا۔کہ لَيُمَزِّ قَنَّهُمْ کہ اللہ تعالیٰ ضروران کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا انہیں پراگندہ کر دے گا اور ان میں اختلاف پیدا کر کے ان کی طاقت کو توڑ دے گا۔اس وقت ان لوگوں کے زور کی یہ حالت تھی کہ انہی Jee