سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 469
۴۶۹ حق کی جانب سے ملا ہو جس کو تقویٰ کا لباس جسم پر اس کے اگر گاڑھا بھی ہو کم خواب ہے جسم ایمان سعی و کوشش سے ہی پاتا ہے نمو آرزوئے بے عمل کچھ بھی نہیں اک خواب ہے۔*۔*۔* تم کو مجھ سے ہے عداوت تو مجھے تم سے ہے پیار میری یہ کیسی محبت ہے کہ جاتی ہی نہیں غیر بھی بیٹھے نہیں اپنے بھی ہیں گھیرا ڈالے مجھ میں اور تجھ میں وہ خلوت ہے کہ جاتی ہی نہیں طعن پاکاں پاکان شغل صبح و شام ہے مولوی صاحب کی لسانی تو دیکھ وعظ قرآن پر کبھی تو کان دھر علم کی اس میں فراوانی تو دیکھ ہے اکیلا کفر ނ زور آزما روح ایمانی تو دیکھ احمدی کی کی روح راتیں تو ہوا کرتی ہیں راتیں ہی ہمیشہ پر ہم کو نظر آتے ہیں اب دن کو بھی تارے سچ بیٹھا ہے اک کونہ میں منہ اپنا جھکا کر اور جھوٹ کے اُڑتے ہیں فضاؤں میں غبارے