سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 431
رانے موجود ہوں اور ان میں سے کوئی ایک دانہ زمین پر گر جائے۔جس طرح چنے چہاتے وقت یا مکی کے دانے کھاتے وقت کوئی ایک کھیل زمین پر گر جاتی ہے تو انسان پروا بھی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسے سینکڑوں دانے میری جھولی میں موجود ہیں۔اسی طرح جب قوم میں کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو علوم و فنون کے ماہر ہوں تو ان میں سے کسی کی موت جماعت کے لئے پریشانی کا موجب نہیں ہو سکتی۔در حقیقت زندہ قوم کی علامت ہی یہی ہے کہ اس کے اندر اس قدر علماء کی کثرت ہوتی ہے کہ کسی ایک کے فوت ہونے پر اسے ذرا بھی احساس نہیں ہو تاکہ آئندہ کام کس طرح چلے گا۔بے شک شخصی لحاظ سے ایک شخص کی وفات دکھ اور رنج کا موجب ہو سکتی ہے اور ہمیشہ ہوتی ہے مگر بہر حال یہ ایک شخصی سوال ہو گا قومی سوال نہیں ہو گا۔ایک شخص کا باپ مر جاتا ہے ایک شخص کی ماں مرجاتی ہے تو اس کا دل زخمی ہوتا ہے۔اس میں سے خون کے قطرے ٹپک رہے ہوتے ہیں مگر وہ یہ نہیں کہتا کہ اب قوم کا کیا حال ہو گا۔وہ جانتا ہے کہ دنیا بس رہی ہے اور بستی چلی جائے گی۔آج ایک مرتا ہے تو کل اور پیدا ہو جاتا ہے کل دو سرا مرتا ہے تو پرسوں تیسرا پیدا ہو جاتا ہے۔بہر حال کسی قوم کی زندگی کی یہ علامت ہے کہ اس میں علم کی کثرت ہو اس میں علماء کی کثرت ہو اس میں ایسے نفوس کی کثرت ہو جو قوم کے سرکردہ افراد کے مرنے پر اس وقت ان کی جگہ کو پر کرنے کیلئے تیار ہوں۔ہمارے لئے یہ خطرہ کی بات نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ اول بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے ، یا مولوی عبد الکریم صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے ، یا مولوی برہان الدین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے ، یا حافظ روشن علی صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے ، یا قاضی امیر حسین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا میر محمد اسحق صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے بلکہ ہمارے لئے خطرہ کی بات یہ ہے کہ جماعت کسی وقت بحیثیت جماعت مرجائے اور ایک عالم کی جگہ دوسرا عالم ہمیں اپنی جماعت میں دکھائی نہ دے۔پس اپنے آپ کو اس مقام پر لاؤ اور جلد جلد ترقی کی طرف اپنے قدموں کو بڑھاؤ۔میں نہیں جانتا کہ جب خدا نے میرے متعلق یہ کہا ہے کہ میں جلد جلد بڑھوں گا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ میری موت جلد آنے والی ہے۔یا یہ مطلب ہے کہ میں جلد جلد ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاؤں گا۔تم ان دو