سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 426 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 426

۴۲۶ فرماتے ہیں:۔”ہمارے جسم کا ہر ذرہ محمد رسول اللہ علی یار پر قربان ہونے کا متمنی ہے۔ہماری جان بھی اسی کیلئے ہے ، ہمار ا مال بھی اس کے واسطے ، ہم اس پر راضی ہیں۔بخدا راضی ہیں۔پھر کہتا ہوں بخدا راضی ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے قتل کر دو۔ہمارے دیکھتے دیکھتے ہمارے اہل و عیال کو جان سے مار دو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ کو گالیاں نہ دو۔ہمارے مال لوٹ لو، ہمیں اس ملک سے نکال دو لیکن ہمارے سردار حضرت نبی کریم میں ترمیم کی ہتک اور توہین نہ کرو۔انہیں گالیاں نہ دو۔اگر یہ سمجھتے ہو کہ محمد رسول الله ملی و لیور کو گالیاں دینے سے تم رک نہیں سکتے تو پھر یہ بھی یاد رکھو کہ کم سے کم ہم تمہارا اپنے آخری سانس تک مقابلہ کریں گے اور جب تک ہمارا ایک آدمی بھی زندہ ہے وہ اس جنگ کو ختم نہیں کرے گا۔ہندو مسلم فسادات ان کا علاج صفحہ ۵۷) خدا تعالیٰ کے دربار میں آنحضرت ملی لی لی او لیول کو جو عدیم النظیر مقام حاصل تھا اسے ایک نہایت دلکش اور مؤثر رنگ میں بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔" غرض یہ کیسا عظیم الشان دربار ہے کہ اس میں بادشاہ کی طرف سے اپنے درباری کو جو مقام دیا گیا وہ دنیا کی شدید مخالفت کے باوجود قائم رہا۔قائم ہے اور قائم رہے گا۔حکومتیں اس روحانی گورنر جنرل کے مقابلے پر کھڑی ہو ئیں تو وہ مٹادی گئیں۔بڑے بڑے جابر بادشاہوں نے اس کا مقابلہ کیا تو وہ مچھر کی طرح مسل دیئے گئے کیونکہ اس دربار خاص کا بادشاہ یہ برادشت نہیں کر سکتا کہ اس کے مقرر کردہ گورنر جنرل کی کوئی ہتک کرے یا اس کے پہنائے ہوئے جبہ کو کوئی اُتارنے کی کوشش کرے وہ اپنے درباریوں کے لئے بڑا غیور ہے اور سب سے بڑھ کر وہ اس دربار کے لئے غیرت مند ہے جس کا مبارک نام محمد مصطفی میں الا یہی ہے۔خدا تعالیٰ کی اس پر لاکھوں برکتیں اور کروڑوں سلام ہوں۔آمین۔(مسیر روحانی صفحه ۲۷۹٬۲۷۸) بر صغیر پاک و ہند میں ہندوؤں کے معاشرتی غلبہ و تفوق کی وجہ سے نہایت ظالمانہ قسم کی طبقاتی تفریق ہر طرف چھا چکی تھی۔انسانی غلامی اور ذلت کی اس نفسیاتی کیفیت کا قلع قمع کرنے کیلئے حضور نے متعدد مواقع پر نہایت مفید کوششیں کیں۔نہایت مؤثر زبانی نصائح پر اکتفاء نہ کرتے