سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 31 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 31

۳۱ کیلئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہئے۔اولاد پیدا ہونے کے ذریعہ بھی ترقی ہوتی ہے مگر وہ ایسی نہیں جو تبلیغ کے ذریعہ ہوتی ہے۔یہ ترقی اولاد کے ذریعہ ہونے والی ترقی سے بڑھ کر بابرکت ہوتی ہے۔رسول کریم میں لیلہ و لیلہ نے فرمایا ہے۔ایک شخص کا ہدایت پا جانا اس سے زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ کسی کے پاس اس قدر سرخ اونٹ ہوں کہ ان سے دو وادیاں بھر جائیں۔پس تبلیغ کرو اور احمدیت کی اشاعت میں منہمک رہو تاکہ تمہاری زندگی میں اسلام اور احمدیت کی شوکت کا زمانہ آجائے۔جب کہ سب لوگ احمدی ہو جائیں گے تو پھر رعایا بھی احمدی ہوگی اور بادشاہ بھی احمد ی۔میں نے بچپن میں ایک رویا دیکھا تھا۔۱۲ ۱۳ سال کی عمر تھی کہ کبڈی ہو رہی ہے۔ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ساتھی۔جو شخص کبڈی کہتا ہوا مولوی محمد حسین صاحب کی طرف سے آتا ہے اسے ہم مار لیتے ہیں اور اس میں قاعدہ یہ ہے کہ جو مرجائے وہ دوسری پارٹی کا ہو جائے۔اس قاعدہ کی رو سے مولوی صاحب کا جو ساتھی مارا جاتا وہ ہمارا ہو جاتا۔مولوی صاحب کے سب کے سب ساتھی اس طرح ہماری طرف آگئے۔تو وہ اکیلے رہ گئے اس پر انہوں نے پاس کی دیوار کی طرف منہ کر کے آہستہ آہستہ لکیر کی طرف بڑھنا شروع کیا اور لکیر کے پاس پہنچ کر کہا میں بھی اس طرف آجاتا ہوں اور وہ بھی آگئے۔مولوی محمد حسین صاحب سے مراد آئمہ کفر ہیں اور اس طرح بتایا گیا کہ جب عام لوگ احمدی ہو جائیں گے تو وہ بھی ہو جائیں گے اور جب رعایا احمدی ہو جائے گی تو بادشاہ بھی ہو جائیں گے۔پس تبلیغ کرو احمدیت کو پھیلاؤ اور دعاؤں میں لگے رہو۔دل میں درد پیدا کرو عاجزی، فروتنی اور دیانت داری اختیار کرو اور ہر طرح خدا کے مخلص بندے بننے کی کوشش کرو۔اگر کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو اس پر اصرار مت کرو کیونکہ جو اپنی غلطی پر اصرار کرتا ہے اس کے اندر سے نور جاتا رہتا ہے۔نہ اس کی نمازوں میں لذت رہتی ہے اور نہ دعاؤں میں برکت ، اپنی غلطی پر نادم ہونا اور خدا تعالیٰ کے حضور گریه و زاری کرنا ترقی کا بڑا بھاری گر ہے۔پس اگر غلطی کرو تو بھی اور نہ کرو تو بھی خدا تعالیٰ کے حضور جھکو اور اس سے عفو طلب کرو اس طرح مستقل ایمان حاصل ہو جاتا ہے