سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 365
۳۶۵ " جہاں اس فتنے نے ہماری جماعت کے لئے نئی نئی مشکلا سے پیدا کیں اور انفرادی طور پر بعض احمدیوں کو نقصان بھی اٹھانا پڑا وہاں اس کے بعض فوائد بھی ہمیں اللہ تعالٰی کے فضل سے حاصل ہوئے۔چنانچہ ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ ملک کے جن ذمہ دار افراد کو جھوٹے الزامات کے ذریعے جماعت احمدیہ سے بدظن کیا جا رہا تھا۔ہمیں بھی انہیں سمجھانے کا اور اصل حقیقت واضح کرنے کا موقع ملا۔چنانچہ ان میں سے بعض نے بعد میں برملا کہا کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے احمدی اسلام کا اور قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں۔لیکن اب ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ یہ غلط ہے احمدی بھی رسول کریم میں اللہ پر اور قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں۔اور ان کا دیگر مسلمانوں کے ساتھ جو اعتقادی اختلاف ہے اسے صرف تفسیر اور تاویل کا اختلاف کہا جا سکتا ہے۔دو سرا اثر اس فتنے کا یہ ہوا کہ کراچی میں جماعت احمدیہ کے جلسہ میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے اسلام زندہ مذہب ہے " پر تقریر کی۔یہ مولوی بھلا یہ کب برداشت کر سکتے تھے کہ اسلام کو زندہ مذہب ثابت کیا جائے انہوں نے اسلام کو زندہ مذہب ثابت کرنے کو اپنے لئے ایک بڑی اشتعال انگیزی قرار دیا اور ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کی۔کراچی میں چونکہ بیرونی ممالک کے سفیر بھی موجود ہوتے ہیں اس لئے جب انہوں نے یہ حالات دیکھے تو ان پر یہ اثر ہوا اور اسی اثر کے ماتحت انہوں نے اپنے اپنے ملک میں رپورٹیں بھیجیں کہ احمدی جماعت ایک فعال جماعت ہے اور مولویوں کا طبقہ محض اعتقادی اختلاف پر عوام کو مشتعل کر رہا ہے اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہو رہا ہے۔اور مذہبی تعصب کو ہوا دے کر اسے ایک تنگ نظر ملک بنانا چاہتا ہے۔ان میں سے بعض نے اس رائے کا اظہار کیا کہ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان ایک ترقی کرنے والا ملک ہے مگر اس ہنگامے کو دیکھ کر پاکستان کی ترقی کے متعلق ہمارے دل میں شبہات پیدا گئے ہیں۔گویا انہوں نے سمجھا کہ شاید یہی مولوی ملک کی آواز ہیں حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔یہ لوگ پاکستان کا ایک چھوٹا سا جز و تو سمجھے جاسکتے ہیں مگر انہیں پاکستان کا دل قرار نہیں دیا جا سکتا۔پاکستان کا دل اور ہے۔بے شک لوگ وقتی اشتعال کے ماتحت ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں مگر ملک کی حقیقی آواز ہر گز وہ نہیں ہے جو یہ لوگ بلند کرتے ہیں۔پس اس فتنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ غیر ممالک میں ہمیں متعارف ہونے اور انہیں ہو