سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 360
٣٦٠ پنجاب کے نوٹس والا واقعہ سن چکے تھے اور وہ دیکھ چکے تھے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے چند دنوں کے اندراندر میری بات کو پورا کر دیا اور مسٹر چند دیگر کو پنجاب سے رخصت کر دیا اور پھر اس سے پہلے میری طرف سے یہ بھی شائع ہو چکا تھا کہ میرا خدا میری مدد کے لئے دوڑا آ رہا ہے اس لئے وہ اتنے متاثر تھے کہ مجھے کہنے لگے کہ مجھے حکم تو یہ ہے کہ عورتوں والے حصہ کی بھی تلاشی لی جائے مگر مجھے کسی تلاشی کی ضرورت نہیں۔میں گورنمنٹ کو لکھ دوں گا کہ میں نے تلاشی لے لی ہے۔میں نے کہا اگر آپ ایسا لکھیں گے تو میں اخبار میں اعلان کر دوں گا یہ بالکل غلط ہے انہوں نے کوئی تلاشی نہیں لی۔آپ اندر چلیں اور ایک ایک چیز کو دیکھیں تاکہ آپ کے دل میں کوئی شبہ نہ رہے چنانچہ وہ اندر گئے اور انہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سے کہا کہ وہ کاغذات دیکھ لیں۔" (الفضل ۵- ستمبر ۱۹۵۸ء) اس واقعہ سے بھی حضور کا مخالف حالات کے باوجود پورے طور پر سکون سے رہنے کا ثبوت ملنے کے علاوہ آپ کے ایمان و توکل اور ایقان و عرفان کا اظہار ہوتا ہے۔اس واقع سے وہ تلاشی بھی یاد آتی ہے جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پیشگوئی کے مطابق لیکھرام کے قتل کے بعد آپ کی ہوئی تھی اور آپ خود پولیس افسر کو سارے گھر میں ساتھ لے کر ہر چیز دکھاتے رہے۔جس طرح اس تلاشی کے نتیجہ میں یہ ثابت ہوا تھا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کوئی سازش نہیں کی تھی اور آپ کی پیشگوئی کے پورا ہونے میں کسی انسانی ہاتھ کا کوئی دخل نہیں تھا اسی طرح اس موقع پر بھی یہ ثابت ہوا کہ جب حضرت فضل عمر نے یہ فرمایا تھا کہ خدا میری مدد کے لئے دوڑا آ رہا ہے تو آپ نے واقعی خدا تعالیٰ کو اپنی مدد کے لئے آتے ہوئے دیکھا تھا اور اسی وجہ سے آپ کو کسی خلاف قانون حرکت یا انسانی امداد کی ضرورت نہ تھی اور خدائے قادر آپ کی تائید و نصرت فرما رہا تھا۔خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے پنجاب بھر میں امن و امان کی صور تحال جس خوفناک حد تک تحقیقاتی عدالت کا تبصرہ گرگوں ہو گئی تھی اس پر جامع تبصرہ کرتے ہوئے۔تحقیقاتی عدالت کے فاضل جوں نے لکھا۔یہ امر تمام جماعتوں کے نزدیک مسلم ہے کہ ۶۔مارچ کو جو کوائف موجود تھے ان میں حالات کو فوج کے حوالے اور سول اقتدار کو فوج کے ماتحت کر دینا بالکل ناگزیر ہو