سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 357
۳۵۷ تک تحقیقاتی عدالت کا ذکر بھی علماء کی دکھتی ہوئی رگ پر انگلی رکھنے کے مترادف ہے۔مسلم کی تعریف کے متعلق کوئی دو عالم بھی باہم متفق نہ تھے۔اس بنیادی مسئلہ کے متعلق علماء کے بیانات کے پیش نظر تحقیقاتی عدالت کے فاضل ججوں نے لکھا۔ان بہت سی تعریفوں کے پیش نظر جو کہ علماء نے پیش کی ہیں کیا ہمیں کسی تبصرے کی ضرورت ہے سوائے اس کے کہ کوئی بھی دو مقدس عالم اس بنیادی اصول پر متفق نہ تھے۔اگر ہم خود اسلام کی تعریف پیش کرنے کی کوشش کریں جیسا کہ ہر فاضل عالم دین نے کی ہے اور ہماری تعریف ان سے مختلف ہو جو دوسروں نے کی ہے تو ہم متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج۔اور اگر ہم کسی ایک عالم کی بتائی ہوئی تعریف کو قبول کر لیں تو ہم صرف اس ایک عالم کی تعریف کے مطابق ہی مسلمان رہتے ہیں لیکن باقی تمام علماء کی تعریفوں کے مطابق ہم کا فربن جاتے ہیں۔" فسادات کے دوران کس قدر نقصان ہوا اور کیسے شرمناک کرتوت نقصانات کا اجمالی ذکر اسلام اور بانی اسلام میں اللہ کے نام پر کئے گئے ان کی تفصیل ایک الگ کتاب کی متقاضی ہے۔حضرت فضل عمر نے اپنے ایک خطاب میں اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا۔ان دنوں پنجاب کے اکثر اضلاع میں احمدیوں کی حالت ایسی ہی تھی۔جیسے لومڑ کا شکار کرنے کے لئے شکاری کتے اس کے پیچھے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں اور لومڑ اپنی جان بچانے کے لئے کبھی ادھر بھاگتا ہے اور کبھی ادھر بھاگتا ہے ان ایام میں لاریاں کھڑی کر کے احمدی کو نکالا جاتا اور انہیں پیٹا جاتا۔اسی طرح زنجیریں کھینچ کر گاڑیوں کو روک لیا جاتا اور پھر تلاشی لی جاتی کہ گاڑی میں کوئی احمدی تو نہیں اور اگر کوئی نظر آتا تو اسے مارا پیٹا جاتا۔اسی طرح ہزاروں ہزار جتھے بن کر دیہات میں نکل جاتے اور گاؤں کے دس دس پندرہ پندرہ احمدیوں پر حملہ کر دیتے یا اگر ایک ہی گھر کسی احمدی کا ہو تا تو اسی گھر پر حملہ کر دیتے۔مال و اسباب لوٹ لیتے۔احمدیوں کو مارتے پیٹتے اور بعض شہروں میں احمدیوں کے گھروں کو آگ بھی لگائی گئی۔بیسوں جگہوں پر احمدیوں کے لئے پانی بھی روک دیا گیا اور وہ تین تین چار چار دن تک ایسی حالت میں رہے کہ انہیں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں مل سکا۔اسی طرح بعض جگہ ہفتہ ہفتہ دو دو ہفتے وہ بازار سے سودا بھی نہیں