سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 356 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 356

۳۵۶ یہ احساس شدید ہوا ہے کہ بیان نہایت (Straight) ہے اور پوری دیانت و امانت سے اپنی رائے کا اظہار ہے۔۔۔۔۔ان مولویوں کی زبر دست شکست ہے کہ کچھ بھی اپنے مطلب کی بات نہ پوچھ سکے۔ایک نے کہا کہ یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ مرزا صاحب پاکستان میں واحد عالم ہیں۔بیان میں تناقض قطعاً نہیں لوگ حیران ہیں کہ اس قدر اختصار اور ایسے مشکل اور حیران کن مسائل کے متعلق ایک وکیل نے کہا کہ مرزائیوں کے عقائد بڑے (Rational ) (معقول ) ہیں انہوں نے مذہب کو (Rational) کر دیا ہے۔۔۔مرزائیوں کے عقائد عقل اور دلیل پر مبنی ہیں ایک ہنس کر کہنے لگا مجھے تو ڈر ہے منیر بھی (چیف جسٹس) مرزائی نہ ہو جاوے" محترم جناب گیانی عباد اللہ صاحب نے لاہور کے پڑھے لکھے لوگوں کے تاثرات بیان کرتے ہوئے حضور کے نام اپنے ایک خط میں لکھا » پڑھا لکھا طبقہ جن میں بعض کمیونسٹ بھی شامل ہیں کہہ رہا ہے کہ اگر تو اسلام کی یہی تعلیم ہے جو حضور نے بیان کی ہے تو پھر یہ اسلام ایا ہے جو مستقبل میں قابل قبول ہو گا۔مولوی کا اسلام تو بہت گھناؤنا ہے اس کے لئے کوئی جگہ نہیں۔۔۔اس طرح جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے اپنے خط میں تعلیم یافتہ طبقہ کے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا۔" حضور کے بیان کا اثر تعلیم یافتہ طبقہ پر بہت گہرا ہوا ہے۔اتنا گہرا کہ اندازہ بھی مشکل سے ہو سکتا ہے۔ایک سب بج جو بیان کے وقت عدالت میں موجود تھا اس کا قول ہے کہ اگر ایمان مضبوط نہ ہو تو احمدی ہونے کو اس وقت جی چاہتا تھا۔اس بیان سے بہت سی غلط فہمیاں احرار کی پھیلائی ہوئی دور ہو چکی ہیں۔بہت سے پیچیدہ مسائل کے حل ہونے کا لوگ اعتراف کرتے ہیں۔غرضیکہ تائید الہی اور نصرت بالرعب کا سماں ہے وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ ) تاریخ احمدیت جلد ۱۶ صفحه ۴۱۱) اس تصویر کا دوسرا رخ بھی بہت دلچسپ و عجیب ہے۔عدالت میں مسلم لیگ اور مخالف جماعتوں کے وکلاء و علماء اس زعم میں پیش ہوئے تھے کہ وہ اپنی کثرت کے بل بوتے پر اپنا مؤقف ثابت کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کریں گے مگر فسادات کے دوران ان کے غلط طرز عمل اور ان کے بودے خیالات و استدلال کی وجہ سے انہیں اس مضحکہ خیز صور تحال کا سامنا کرنا پڑا کہ آج