سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 355 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 355

۳۵۵ اس عدالت کے سامنے پاکستان کے قریباً تمام مشہور علماء اکثر سیاستدان اور اخبار نویس و غیره پیش ہوئے۔ہزاروں صفحات اور سینکڑوں دستاویزات و بیانات پر مشتمل عدالتی کارروائی کا بنظر غور جائزہ لینے کے بعد اپنا واضح اور دوٹوک فیصلہ دیتے ہوئے ان فسادات کے براہ راست ذمہ دار مجلس احرار ، جماعت اسلامی ، آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونشن کراچی ، آل مسلم پارٹیز کنونش لاہور تعلیمات اسلامی بورڈ کراچی، صوبائی مسلم لیگ مرکزی حکومت محکمہ اسلامیات اور بعض اخبارات کو قرار دیا۔اس عدالت کے سامنے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بطور گواہ پیش ہوئے اور جماعت کے موقف اور اپنے طرز عمل کی نہایت موثر و معقول وضاحت فرمائی۔جماعت کے نقطہ نظر سے عدالتی کارروائی کا نقطہ عروج ہمارے پیارے امام حضرت موعود کا عدالت میں بطور گواہ پیش ہونا تھا۔پاکستانی عوام بالعموم اور غیر احمدی علماء اور وکلاء بالخصوص اس امر کو جماعت اور امام جماعت کی تذلیل اور سیکی کا باعث سمجھتے ہوئے بڑی شدت سے اس کے منتظر تھے۔حضور ایک منفرد شان سے عدالت میں تشریف لے گئے نہایت وقار اور متانت سے عدالت کے منصفوں اور وکلاء کے سوالات کے جواب دیئے۔حضور کا بیان ۱۲۔جنوری ۱۹۵۴ء سے ۱۷۔فروری ۱۹۵۴ء تک جاری رہا۔جماعت لاہور کے بہت سے مخلص اس طرح ربوہ سے جامعتہ المبشرین کے طلبہ اساتذہ اور بعض اور بزرگ اس موقع پر ضروری خدمات کے لئے موجود رہے۔عدالت میں حضور کے بیان کی تفصیل تو یہاں پیش نہیں کی جا سکتی البتہ اس بیان کے متعلق بعض آراء اور تاثرات درج ذیل ہیں۔محترم چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ نے حضور کی خدمت میں بعض معزز غیر احمدیوں کے تاثرات تحریر کرتے ہوئے لکھا۔" ہر وکیل جو ملتا ہے تعریف کرتا ہے۔بے حد تعریف اور اپنے اپنے رنگ میں۔کوئی اپنی خفت مٹانے کے لئے اپنے وکیلوں کو کوستا ہے۔۔۔کوئی کہتا ہے کہ ایسا مولوی تلاش کرنا چاہے تھا جس کو دینی اور دنیوی علوم پر عبور ہو تا۔کوئی مظہر علی اظہر اور میکش ( مرتضی احمد خان میکش کو کوستا ہے اور نالائق بیان کرتا ہے اور بعض یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ واقعی ایسابیان ذہانت کا شاہکار ہے۔میر قیوم (ایک مشہور وکیل) نے کہا کہ خیالات سے کوئی متفق ہو یا نہ ہو مگر بیان پڑھ کر