سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 337
۳۳۷ ہوئے فرمایا۔" میں تمام احباب کو ان کے اخلاقی اور مذہبی فرض کی طرف توجہ دلا تا ہوں کہ ایسے دن جب آتے ہیں تو مومن خوشی اور لاف و گزاف سے کام نہیں لیتے بلکہ دعاؤں اور استغفار سے کام لیتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے گند بھی صاف کرے اور ان کے مخالفوں کو سمجھ بھی دے کہ آخر وہ بھی ان کے بھائی ہیں۔ہم میں خواہ کتنے ہی اختلاف ہوں ہم اس امر کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ سب مسلمان کہلانے والے ہمارے آقا کی امت سے ہیں اور امت خواہ کتنی بھی غلطی کرے ان کی تکلیف کا رنج صاحب امت کو ضرور ہوتا ہے۔۔۔۔پس ہمیں ان لوگوں کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے جو غلط فہمیوں میں مبتلاء ہو کر ہماری مخالفت کرتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ان کو ایسے رستہ پر چلنے کی توفیق دے کہ وہ خود بھی عذابوں سے بچیں اور حکومت کے لئے بھی پریشانی کا موجب نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو آزادی اور حکومت بخشی ہے۔ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ حکومت کو ضعف نہ پہنچے اور خدا تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ ہمیں اور دو سرے پاکستانی مسلمانوں کو وہ ایسے اعمال کی توفیق دے کہ جس سے پاکستان مضبوط ہو اور غیروں میں ہماری عزت بڑھے اور ہم عالم اسلام کی تقویت اور اتحاد کا موجب بن الفضل ۲۸۔فروری ۱۹۵۳ء) جائیں۔جماعت کو ایک ضروری ہدایت دیتے ہوئے حضور نے فرمایا۔حکومت کو بہر حال حالات سے آگاہ رکھنا ضروری ہے خواہ وہ ہماری داد رسی کرے یا نہ کرے کیونکہ ہمارا بھروسہ تو خداتعالی پر ہے۔حکومت کو بتانے کا مقصد تو ان پر حجت تمام کرنا ہے تاوہ بعد میں یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں تو اس کے متعلق کسی نے بتایا ہی نہیں۔" اس پر حکمت اصول کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔اگر کوئی شخص تم پر ظلم اور تعدی کرتا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ افسر فرض شناس ہے اور وہ تمہاری مدد بھی کرے گا تو پھر بھی وہ اس وقت تک ظلم کو نہیں مٹا سکتا جب تک کہ وہ وقت نہ آجائے جو خد اتعالیٰ نے اسے مٹانے کے لئے مقرر کیا ہے۔ایک صداقت کی دشمنی محض یہ نہیں ہوتی کہ اس کے قبول کرنے والے کو مارا جائے بلکہ دشمنی یہ