سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 326 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 326

۳۲۶ کام کر رہے ہیں اور پھر فوجی ٹریننگ میں بھی یہ لوگ کسی سے پیچھے نہیں میں بتا چکا ہوں کہ پانچ سو آدمی ہر وقت کام پر رہنے چاہئیں۔ان میں سے ایک سو ہیں تو وہ نکل گیا جو معمولی گذارہ لے کر کام کر رہا ہے۔باقی چار سو کے قریب آدمی رہ گئے۔لیکن اس وقت یہ حالت ہے کہ برابر آٹھ نو مہینوں سے ایک سو ہیں مخلصوں کو نکال کر جو جماعت کی طرف سے والٹیر ز جاتے ہیں ان کی نفری ایک سو پچاس تک رہ گئی ہے۔ہمیں یہ خطر ناک صورت حالات دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ جس طرح وہ شخص جو چندہ نہیں دیتا اسے جماعت سے خارج کیا جاتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو فوجی ٹرمینگ کیلئے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے ان کو بھی جماعت میں سے خارج کر دیا جائے۔بلکہ جہاد اور جنگ کی تیاری تو چندہ سے بہت زیادہ اہم ہے جیسے نماز پڑھنا فرض ہے اسی طرح دین کی خاطر ضرورت پیش آنے پر لڑائی کرنا بھی فرض ہے۔یہ کہنا کہ یہ دین کی خاطر جہاد نہیں بالکل لغو بات ہے۔ملک کی حفاظت بھی تو ایک قسم کا جہاد ہو تا ہے گو وہ سو ہوتا رپورٹ مشاورت ۱۹۵۰ء صفحه ۹ تا ۱۳)۔فی صدی جہاد نہ ہو۔۔۔۔۔۔" ای مضمون کے تسلسل میں حضور اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:۔" بے دین لوگ بھی ملک کی خاطر اور حمیت کی خاطر اور جاہلیت کی خاطر بڑی بڑی قربانی کیا کرتے ہیں۔پس جان اتنی قیمتی چیز نہیں کہ اسے اس طرح سنبھال کر رکھا جائے۔لیکن جب سینکڑوں سال کی غلامی کے بعد کسی کو آزادی ملے اور سینکڑوں سال کے بعد کسی کو اس بات کے آثار نظر آنے لگیں کہ خدا تعالیٰ پھر اسلام کی سربلندی کے مواقع بہم پہنچا رہا ہے تو اس وقت بھی اپنے حالات میں تغیر پیدا نہ کرنا اور غلامی کے احساسات کو قائم رکھنا بڑی خطرناک بات ہے ہم تو انگریزوں کے زمانہ میں بھی یہ کہا کرتے تھے کہ غلامی اور چیز ہے اور اطاعت اور چیز ہے جب گاندھی کہتا کہ ہم کب تک انگریزوں کے غلام رہیں گے تو میں ہمیشہ اس کے جواب میں یہ کہا کرتا تھا کہ میں تو انگریزوں کا غلام نہیں میری عمیر خدا تعالیٰ کے فضل سے اب بھی آزاد ہے۔اور اگر مجھے جائز رنگ میں ان کا مقابلہ کرنا پڑے تو ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔غرض غلامی کے غلط اور گندے احساسات اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے اندر نہیں تھے لیکن دوسرے لوگ اگر انہی احساسات کو اب بھی لئے چلے جائیں۔۔۔۔تو