سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 309 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 309

۳۰۹ ذکر نہیں۔قرآن کریم میں ہے اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَا جَلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ (النور:(۳) زانی مرد یا زانی عورت کو سو کوڑے لگاؤ اور جو جھوٹا الزام لگائے اسے اس کوڑے لگاؤ۔ان دونوں حکموں کے بعد فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔(النور:۲۰)۔پس یہ سو کوڑے بھی فحش کی سزا ہیں۔ظاہر ہے کہ جو اس طرح زنا کرے گا کہ چار گواہ اس کے فعل کے مل سکیں گے وہ زنا سے زیادہ بخش کا مرتکب ہو گا اور فحش ہی کی یہ سزا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ زنا کی کیا سزا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ زنا کی سزا خد اتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔چنانچہ زانی کے متعلق فرماتا ہے يَلْقَ أَثَامًا ( فرقان : ۶۹) یعنی وہ اپنے گناہ کی سزا خدا سے پائے گا۔ہاں زنا کو روکنے کے لئے شریعت اسلامیہ نے اس کے مبادی کو روکا ہے۔مثلاً غیر محرم مرد و عورت کے اختلاط کو روکا ہے۔-۲- چوری کی سزا قطع ید۔اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا - (مائدہ:۳۹) یہ سزا سخت بتائی جاتی ہے۔جواب۔یہ سزا ہر چوری کی نہیں۔بلکہ اس کے لئے شرطیں ہیں۔اول۔چوری اہم ہو۔دوم۔بلا ضرورت ہو یعنی عادۃ۔طعام کی چوری پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا نہ دی۔اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کے متعلق ہے کہ ہاتھ نہ کائے جائیں گے جس کی یہ وجہ ہے کہ وہ کما نہیں سکتا اور بھوک سے مجبور ہے۔سوم۔تو بہ سے پہلے گرفتار ہو تب سزا ملے گی۔چہارم۔مال چوری کر چکا ہو۔صرف کوشش سرقہ نہ ہو۔پنجم۔اس کی چوری مشتبہ نہ ہو۔یعنی اشتراک مال کا مدعی نہ ہو جن کے گھر سے چوری کرے وہ اس کے عزیز یا متعلق نہ ہوں جن پر اس کا حق ہو۔( بیت المال کی چوری پر حضرت عمر نے سزا نہ دی) مثلا کسی مذہبی جنون کے ماتحت ہو۔جیسے بت پر الینا۔یہ مذہبی دیوانگی کہلائے گی اور حکومت تعزیری کار روائی کرے گی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی۔یا جوش انتقام میں چوری کرے جیسے جانوروں کی چوری کرتے ہیں۔یا جبرا چوری کرائی جائے۔ششم۔وہ شخص نابالغ نہ ہو۔ہفتم۔عقلمند ہو بیوقوف یا فاتر العقل نہ ہو۔ہشتم۔اس پر اصطلاح چور کا اطلاق ہو سکتا ہو۔چور سے مال واپس دلوایا