سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 293
۲۹۳ یہودیوں کی سزا کے متعلق آتا ہے کہ تم انسان کے پاخانہ سے روٹی پکا کر کھاؤ گے۔حز قیل باب ۴ آیت (۱۲) گو یہاں انسانی پاخانہ کا ذکر ہے مگر جانور کا پاخانہ بھی تو گندی شئے ہے خواہ نسبتا کم ہو اور اس سے روٹی پکانی بھی یقینا ایک سزا ہے۔اس حوالہ کے مطابق گوبر کا چولہوں میں استعمال خدائی سزا اور قوم کی ذلت کی علامت ہے۔پس مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے تھا۔مگر دیہاتی اقتصادی حالت کے خراب ہونے کی وجہ سے وہ بھی مجبور ہو کر ہندوؤں کے پیچھے چل پڑے جو گائے کے گوبر کو متبرک خیال کرتے ہیں اور اسے چولہے میں جلانا تو الگ رہا کھانے کی چیزوں میں ملانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔پاکستانی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسا انتظام کرے کہ سوختنی لکڑی کثرت سے تمام دیہات اور قصبات میں مل سکے اتنی کثرت سے کہ زمینداروں کو جلانے کیلئے اوپلوں کی ضرورت پیش نہ آئے۔میرے نزدیک پاکستانی حکومت کو پانچ پانچ چھ چھ گاؤں کا ایک یونٹ بنا کر ان کی ایک پنچائت بنا دینی چاہئے جو اقتصادی اور صحت انسانی کے قیام کی ضرورتوں کے مہیا کرنے کی ذمہ دار ہو۔ان گاؤں کے درمیان میں ایک حصہ درختوں کے لگانے کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔یہ درخت تعمیری کاموں کے لئے مخصوص ہوں۔اس کے علاوہ ہر گاؤں میں چراگاہوں کی حفاظت ان کے سپرد ہو۔جہاں چراگاہیں ہیں وہ ان پنچائتوں کے سپرد کی جائیں اور جہاں نہیں ہیں حکومت خود چراگاہیں بنا کر ان پنچائتوں کے سپرد کرے اور ہر گاؤں میں حکومت اتنے درخت سوختنی لکڑی کے لگوائے جو اس گاؤں کی ضرورت کو پورا کر سکیں اور ان پنچائتوں کا فرض ہو کہ وہ دیکھتی رہیں کہ ہر گاؤں مقررہ تعداد درخت کی لگاتا رہتا ہے۔اگر یہ انتظام جاری کیا جائے تو یقینا سوختنی لکڑی کا سوال حل ہو جائے گا اور گو بر کھاد کے لئے بچ جائے گا جس سے ملک کی زراعت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ہر ایسے قصبہ کے لئے جس کی آبادی دس ہزار سے زیادہ ہو قصبہ سے کچھ فاصلہ پر ڈسٹرکٹ بورڈوں کی نگرانی میں سوختنی لکڑی کی رکھیں بنوانی چاہئیں بلکہ میرے نزدیک تو جس طرح ڈسٹرکٹ بورڈ مقرر ہیں اسی طرح ہر ضلع میں اس کی میونسل کمیٹیوں کا ایک مشترکہ بورڈ ہونا چاہئے جس کے سپرد اس قسم کے رفاہ عام کے کاموں کی نگرانی ہو۔اس طرح میونسپل کمیٹیوں کے کاموں میں ہم آہنگی بھی پیدا ہو جائے گی اور باہمی تعاون سے ترقی کے نئے راستے بھی نکلتے رہیں