سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 284
۲۸۴ میں رکھ کر انہیں لا ہو ر لائے اور دوران بحث وہ ہمیں میسر آگئیں اور ان سے ہمیں بہت مدد ملی۔پروفیسرSpate نے دفاعی پہلو سے خاکسار کے ذہن نشین کرا دیا۔ہندو فریق کی طرف سے ہندوستان کے دفاع کی ضروریات کی بناء پر بڑے زور سے دریائے جہلم تک کے علاقہ کا مطالبہ کیا گیا لیکن میری طرف سے پروفیسر Spate کے تیار کردہ نقشہ جات کے پیش کرنے اور ان کی اہمیت واضح کرنے کے بعد فریق مخالف کی طرف سے ایک لفظ بھی جو ابا اس موضوع پر نہ کہا گیا۔بحث کے دوران حضرت خلیفہ المسیح خود بھی اجلاس میں تشریف فرمار ہے اور اپنی دعاؤں سے مدد فرماتے رہے۔فَجَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ تحدیث نعمت صفحہ ۵۱۹٬۵۱۸۔ایڈیشن ۱۹۸۱ء ) ان اہم قومی خدمات کے متعلق حضور فرماتے ہیں۔"ہم نے باؤنڈری کمیشن کے وقت کیا کیا کام کیا۔باؤنڈری کمیشن کا کام ایک نادر چیز ہے۔ہندوؤں کو بھی اس کے قواعد معلوم نہیں تھے اور نہ تازہ لٹریچر دستیاب ہو سکتا تھا میں نے فورا سینکڑوں روپیہ خرچ کر کے امریکہ اور برطانیہ سے تازہ لٹریچر منگوایا اور پھر ایک ماہر کو جو سکول آف اکنامکس کے پروفیسر تھے منگوایا اور کئی ہزار روپیہ خرچ کر کے ان کی مدد سے نقشے تیار کئے اور لیگ کو دیئے۔مجھے تعجب ہے کہ حکومت کے افسر ہماری خدمات کو بھول گئے اور ان لوگوں کو منہ لگا لیا جو تقسیم سے پہلے یہ کہتے تھے کہ ہم پاکستان کی پ بھی نہیں بننے دیں گے۔" (الفضل ۲۔جنوری ۱۹۵۱ء) حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ المسیح الثالث کے مندرجہ ذیل بیان سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ہر احمد ہی اس قومی اہمیت کے مشن کیلئے ہم تن وقف ہو رہا تھا۔ے ۱۹۴ء میں جب باؤنڈری کمیشن بیٹھا تو اس کمیشن کے سامنے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دجل کیا گیا۔ہندوؤں نے یہ دجل کیا کہ انہوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ بات پیش کر دی کہ گو ضلع گورداسپور کی مجموعی آبادی میں مسلمان زیادہ ہیں لیکن ضلع کی بالغ آبادی میں اکثریت ہندوؤں کی ہے اور چونکہ ووٹ بالغ آبادی نے دینا ہے اس لئے یہ ضلع بھارت میں شامل ہونا چاہئے۔ہم جب وہاں سے واپس آئے تو ہم سب بہت پریشان تھے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالا کہ اگر ہمیں