سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 249
۲۴۹ پسند آقا نہیں رکھ سکتا تھا۔کیا اب بھی وہ اپنے اس مطالبہ میں حق بجانب نہ تھے ؟ کیا اب بھی وہ اپنے حقوق کی حفاظت کیلئے تگ و دو نہ کرتے ؟ کیا اب بھی وہ اپنی عزت کی رکھوالی نہ کرتے ؟ اور کیا اب بھی وہ ہندوؤں کی بدترین غلامی میں اپنے آپ کو پیش کر سکتے تھے ؟ «مسلمانوں کو ہمیشہ باوجو د لائق ہونے کے نالائق قرار دیا جاتا رہا ان کو باوجود اہل ہونے کے نااہل کہا جاتا رہا اور ان کو باوجود قابل ہونے کے ناقابل سمجھا جاتا رہا ہزاروں اور لاکھوں دفعہ ان کے جذبات کو مجروح کیا گیا ، لاکھوں مرتبہ ان کے احساسات کو کچلا گیا اور متعدد مرتبہ ان کی امیدوں اور امنگوں کا خون کیا گیا۔انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا اور وہ چپ رہے، یہ سب کچھ ان پر بیتا اور وہ خاموش رہے انہوں نے خاموشی کے ساتھ ظلم سے اور صبر کیا۔کیا اب بھی ان کے خاموش رہنے کا موقع تھا ؟ " یہ تھے وہ حالات جن کی وجہ سے وہ اپنا الگ اور بلا شرکت غیرے حق مانگنے کے لئے مجبور نہیں ہوئے بلکہ مجبور کئے گئے۔یہ حق انہوں نے خود نہ مانگا بلکہ ان سے منگوایا گیا، یہ علیحدگی انہوں نے خود نہ چاہی بلکہ ان کو ایسا چاہنے کے لئے مجبور کیا گیا اور اس معاملہ میں وہ بالکل معذور تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ باوجو د لیاقت رکھنے کے باوجود اہلیت کے اور باوجود قابلیت کے انہیں نالائق اور نا قابل کہا جا رہا ہے تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اس نا انصافی کے انسداد کا سوائے اس کے اور کوئی طریق نہیں کہ وہ ان سے بالکل علیحدہ ہو جائیں۔میں ہندوؤں سے پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمان فی الواقع نالائق ، نا قابل اور نا اہل تھے ؟ ان کو جب کسی کام کا موقع ملا انہوں نے اسے باحسن سرانجام دیا۔مثلاً سندھ اور بنگال میں ان کو حکومت کا موقع ملا انہوں نے اس کو اچھی طرح سے سنبھال لیا ہے اور جہاں تک حکومت کا سوال ہے ہندوؤں نے ان سے بڑھ کر کون سا تیر مار لیا ہے جو انہوں نے نہیں مارا۔مدراس، بمبئی یوپی اور بہار وغیرہ میں ہندوؤں کی حکومت ہے جس قسم کی گورنمنٹ ان کی ان علاقوں میں ہے اس قسم کی گورنمنٹ سندھ اور بنگال میں بھی ہے۔اگر لڑائی جھگڑے اور فساد و غیرہ کی وجہ سے کسی گورنمنٹ کو نا اہل قرار دینا جائز ہے تو لڑائی تو ہمیٹی میں بھی ہو رہی ہے، یوپی میں بھی ہو رہی ہے اور بہار میں بھی ہو رہی ہے۔اگر نالائقی اور نا اہلی کی یہی دلیل ہو تو بمبئی ، یوپی اور بہار وغیرہ کی گورنمنٹوں