سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 210
۲۱۰ میں غلطاں و پریشان ہو گئے۔اس نہایت درجہ خوش کن حقیقت کی تفاصیل کو مختصر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود کی خدمات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔آپ کے زمانے میں اسلامی مدافعت کا نظام مزید مستحکم ہوا اور دعوت وارشاد کا مقدس فریضہ ہندوستان کی حدود کو پار کرتے ہوئے بیرونی ممالک میں بھی "پاکستان" بنانے لگا۔شُدھی کی ناپاک تحریک اور اس کے مقابل جماعت کی شاندار کار کردگی کا ذکر حصہ دوم میں ہو چکا ہے یہاں اس کا تکرار مد نظر نہیں ہے تاہم یہ اشارہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہند و سرمایہ اور تعصب پاکستان کی بنیادوں کو کمزور کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا اور ان کی کوشش تھی کہ شروع میں آگرہ اور ملکانہ علاقہ کے غریب مسلمان ہندوؤں میں شامل ہو کر اسلامی مقاصد کے خلاف کام کرنے لگ جائیں اور اس کے بعد دوسرے علاقوں تک شدھی کی تحریک وسیع کر کے ہندو راج کو ہندوستان بلکہ دوسرے اسلامی ممالک تک پہنچا دیا جائے مگر حضرت مصلح موعود نے اس سیلاب کے آگے ایسا مضبوط بند باندھا کہ ہندو اپنی کوششوں اپنی اعلیٰ تعلیم اور بے شمار دولت کے باوجود اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔جماعت احمدیہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں اور مسلسل ہمہ جہتی قربانیوں سے کفر کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔شُدھی کی خوفناک تحریک و سازش کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو افلاس و نکبت کے خوفناک جبڑوں میں جکڑے رکھنے کیلئے ہندو اپنے روایتی طریق بغل میں چھری منہ میں رام رام " کے مطابق ذات پات کے خوفناک طریق اور چھوت چھات کے ہولناک رواج کے سہارے ایسی ہر تجارت اور کاروبار کے اجارہ دار بن گئے جو نفع اور سرمایہ میں یقینی اضافہ کا باعث تھی۔مشہور آریہ اخبار " مسافر آگرہ " لکھتا ہے۔" یہ تجارت کا اصول ہے کہ جن اشیاء کی انسان کی زندگی میں روز مرہ ضرورت ہو ان کی تجارت ہی تجار کے لئے زیادہ مفید اور زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور انسانی زندگی کی سب سے پہلی ضرورت کھانا پینا ہے اور ان ہر دو اشیاء کی تجارت ہمارے ہاتھ میں ہے۔اب آپ تھوڑی دیر کے لئے غور کیجئے کہ اگر ہندوؤں میں چھوت چھات نہ ہوتی اور وہ مسلمانوں کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھا لیا کرتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ تمام خوردنی و پوشیدنی اشیاء کی تجارت بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ ہوتی غور کیجئے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آج جس قدر بھی تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے یہ صرف