سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 137
۱۳۷ ہے۔تاہم حضور کی ترجیحات میں جماعتی تربیت کا مقصد ہمیشہ ہی اولین حیثیت رکھتا تھا۔حضور اپنے ایک نہایت اثر انگیز خطاب میں جماعت کو اس مقصد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔۔۔۔پس اس مقام کے رہنے والوں کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ تو کل سے کام لیں اور ہمیشہ اپنی نگاہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلند رکھیں۔جو دیانتدار احمدی ہیں میں ان سے کہوں گا کہ اگر وہ کسی وقت یہ دیکھیں کہ وہ تو کل کے مقام پر قائم نہیں رہے تو وہ خود بخود یہاں سے چلے جائیں اور اگر خود نہ جائیں تو جب ان سے کہا جائے کہ چلے جاؤ تو کم سے کم اس وقت ان کا فرض ہو گا کہ وہ یہاں سے فورا چلے جائیں۔یہ جگہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے بلند کرنے کے لئے مخصوص ہونی چاہئے ، یہ جگہ خدا تعالیٰ کے نام کے پھیلانے کے لئے مخصوص ہونی چاہئے ، یہ جگہ خد اتعالیٰ کے دین کی تعلیم اور اس کا مرکز بننے کے لئے مخصوص ہونی چاہئے ہم میں سے ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنی اولاد اور اپنے اعزہ اور اقارب کو اس رستہ پر چلانے کی کوشش کرے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہو سکے۔نوح کی کوشش کے باوجود اس کا بیٹا اس کے خلاف رہا لوط کی کوشش کے باوجود اس کی بیوی اس کے خلاف رہی اسی طرح اور کئی انبیاء اور اولیاء ایسے ہیں جن کی اولادیں اور بھائی اور رشتہ دار ان کے خلاف رہے۔ہم میں سے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنے خاندان میں سے کتنوں کو دین کی طرف لا سکے گا مگر اس کی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ اس کی ساری اولاد اور اس کی ساری نسل دین کے پیچھے چلے اور اگر اس کی کوشش کے باوجود اس کا کوئی عزیز اس رستہ سے دور چلا جاتا ہے تو سمجھ لے کہ وہ میری اولاد میں سے نہیں میری اولا د وہی ہے جو اس منشاء کو پورا کرنے والی ہے جو الہی منشاء ہے۔جو شخص دین کی خدمت کے لئے تیار نہیں وہ ہماری اولاد میں سے نہیں۔ہم اپنی اولاد کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ ضرور دین کے پیچھے چلیں۔ہم ان کے دل میں ایمان پیدا نہیں کر سکتے خدا ہی ہے جو ان کے دلوں میں ایمان پیدا کر سکتا ہے لیکن ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ جو اولاد اس منشاء کو پورا کر نیوالی نہ ہوا سے ہم اپنے دل سے نکال دیں۔بہر حال اگر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اعلیٰ مقام دے تو ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس مقام کو دین کا مرکز بنائے رکھیں اور ہمیشہ دین کی خدمت اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے وہ