سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 104
۱۰۴ دونوں کے سوا اور کوئی انسان نظر نہ آتا تھا۔خاموشی اور ایک سنسان خاموشی سے کچھ تنگ آکر اور کچھ گھبرا کر میرے ساتھی نے فرمائش کی اختر بھائی کچھ سناؤ۔چنانچہ میں نے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ اشعار اور پھر کچھ اپنے اشعار جو میں نے ٹرک میں بیٹھ کر راستے میں لکھے تھے باآواز بلند سنائے۔آواز پہاڑوں سے ٹکراکر گونج سی پیدا کر رہی تھی اور میں یہ تصور کر رہا تھا کہ جب ہمار ا سالانہ جلسہ یہاں ہو گا تو اس طرح ہمارے بزرگوں کی تقریریں اور ہمارے موذنوں کی تکبیریں ان پہاڑوں میں گونج پیدا کریں گی۔اور پھر اسی طرح ان تقریروں اور تکبیروں سے ایک دنیا میں گونج پیدا ہوگی۔یہ خیال آتے ہی دل پر ایک بے خودی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اور ہم دیر تک خاموش رہے۔میں نے عمر کے اعتبار سے قادیان کا ابتدائی زمانہ نہیں دیکھا یعنی وہ زمانہ جب کہ قادیان میں ابھی محلے نہیں بنے تھے۔لیکن میں حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالی تاریخ کو ایک نئے دور میں سے گزار کر گزشتہ دور کا اعادہ کر رہا تھا۔چنانچہ میں نے کہا دیکھیں مولوی صاحب قادیان کے ابتدائی دور کا ایک پہلو ہمارے سامنے ہے۔چاند ہنس رہا ہے اور ستارے مسکرا کر ہمیں دیکھ رہے ہیں۔دفعہ دور سے ہمیں ایک ہلکی روشنی دکھائی دی۔ہمارے سکول کے تین بچے ایک لالٹین ہاتھ میں لئے ہماری طرف قدم بڑھاتے چلے آ رہے تھے۔تین بچے دو بنگال کے رہنے والے اور ایک سیلون کا رہنے والا اپنے وطن سے ہزاروں میل دور رات کے دس بجے ایک سنسان وادی میں اپنے آقا کے خدام سے ملنے چلے آرہے تھے۔جب روشنی آئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اس زمین پر سب سے پہلا خیمہ بغیر مزدوروں کی مدد کے اپنے ہاتھ سے لگایا جائے چنانچہ میں نے اور مولوی محمد صدیق صاحب نے ایک چھولداری کو درست کیا اور بغیر کسی کی مدد کے اس میدان کے وسط میں یہ چھولداری اپنے ہاتھ سے لگائی۔اس کے بعد ہم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں اور کچھ دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے۔یہ خیمہ ربوہ کی سرزمین پر پہلا خیمہ تھا جس کے نصب کئے جانے کی سعادت قادیان کے دو ر ہنے والوں کو حاصل ہوئی۔تقریبا نصب شب گزرنے پر احمد نگر سے مکرم مولوی ابو العطاء صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ کی طرف سے کچھ چپاتیاں اور کچھ دال آئی جس کے متعلق معلوم ہو تا تھا کہ یہ بہر حال نہایت عجلت میں تیار کی گئی ہے۔