سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 103
"شام کے سات بجے کے قریب ٹرک جس میں چھولداریاں، خیمہ جات اور سائبان و غیره لدے ہوئے تھے اس سر زمین میں پہنچ گیا جسے اللہ تعالیٰ نے پاکستان میں اسلام کی حیات ثانیہ کا مرکز تجویز فرمایا ہے۔اس ٹرک میں ڈرائیور اور دو مزدوروں کے علاوہ میں اور مکرم مولوی محمد صدیق صاحب مولوی فاضل تھے۔چناب کے پل کے نگران سپاہی اور کچھ راہگیر جو شام کے بعد اس سڑک سے خال خال ہی گزرتے ہیں حیران ہو کر ہمیں دیکھ رہے تھے کہ یہ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں۔مگر خد اتعالیٰ کے فضل سے ہم نہایت ہی اطمینان اور سکون کے ساتھ ٹرک میں سے اپنا سامان اُتارنے میں مصروف تھے۔جب تمام سامان اتارا جا چکا تو ڈرائیور اور مزدوروں کو رخصت کیا گیا اس وقت میلوں تک علاقہ بالکل ویران اور سنسان حالت میں ہمارے سامنے تھا۔دائیں طرف بڑی سڑک تھی جس پر شب کو ٹریفک دفعہ بند ہو جاتا ہے اور بائیں طرف ریلوے لائن تھی جو پہاڑوں کے بیچ میں سے چکر کاٹتی ہوئی ایک طرف چنیوٹ اور دوسری طرف سرگودھا کو چلی جاتی ہے۔رات کے نو بج چکے تھے۔میں نے سامان خاص اس جگہ اتارا تھا جو میرے آقا نے تجویز فرمائی تھی۔اگلے دن حضور مع خدام کے خود تشریف لانے والے تھے اس لئے ہم نے سائبان اور خیمے حضور کی آمد سے پہلے نصب کرنے تھے مگر اس جنگل میں پہلی رات کا تصور کچھ خوف اور کچھ لذت کی سی کیفیت پیدا کر رہا تھا۔خوف تو اس بات کا تھا کہ یہاں کے اکثر دیہاتی لوگوں کے متعلق سنا تھا کہ وہ جانوروں سے کم نہیں اور پھر اس علاقے میں سانپ ، بچھو ، ریچھ اور بعض اوقات بھیڑیا بھی پایا جاتا ہے۔غرض کہ عجیب قسم کے خیالات آرہے تھے۔مگر اس سے بہت زیادہ شیریں وہ کیفیت تھی جو اس خیال سے پیدا ہو رہی تھی کہ یہی دادی غیر ذی زرع ایک دن ہجوم خلائق کا مرکز بنے والی ہے چنانچہ ہم دونوں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس نے محض اپنے خاص فضل سے ہمیں سب سے پہلے آباد کاروں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔رات بڑھتی جارہی تھی اور ہمارے دلوں کا تموج بھی بڑھ رہا تھا۔ہم چنیوٹ سے آتی دفعہ مکرم و محترم سید محمود اللہ شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول کو یہ پیغام دے کر آئے تھے کہ وہ تین چار لڑکے اور ایک لالٹین دے کر جلدی بھیج دیں مگر دس بجے تک اس سنسان اور بے آب و گیاہ وادی میں ہم