سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 102 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 102

١٠٢ ربوہ کا مقام دیکھنے کی دعوت دی اور انہیں ساتھ لے کر وہاں کا دورہ کیا۔اس دورے کی تفصیلات اخباروں میں آچکی ہیں۔ایک مہاجر کی حیثیت سے ہمارے لئے ربوہ ایک سبق ہے۔ساٹھ لاکھ مہاجر پاکستان آئے لیکن اس طرح کہ وہاں سے بھی اُجڑے اور یہاں بھی کسمپرسی نے انہیں منتشر رکھا۔یہ لوگ مسلمان تھے۔رب العالمین کے پرستار اور رحمتہ للعالمین کے نام لیوا مساوات واخوت کے علمبردار ، لیکن اتنی بڑی مصیبت بھی انہیں یکجا نہ کر سکی۔اس کے بر عکس ہم اعتقادی حیثیت سے احمدیوں پر ہمیشہ طعنہ زن رہے ہیں لیکن ان کی تنظیم ان کی اخوت اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کی حمایت نے ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نیا قادیان آباد کرنے کی ابتداء کر دی ہے۔مہاجرین میں وہ لوگ بھی آئے جن میں خدا کے فضل سے ایک ایک آدمی ایسی بستیاں بسا سکتا ہے۔لیکن ان کا روپیہ ان کی ذات کے علاوہ کسی غریب مہاجر کے کام نہ آسکا۔ربوہ ایک اور نقطہ نظر سے بھی ہمارے لئے محل نظر ہے۔وہ یہ کہ حکومت بھی اس سے سبق لے سکتی ہے اور مہاجرین کی صنعتی بستیاں اس نمونہ پر بسا سکتی ہے۔اس طرح ربوہ عوام اور حکومت کے لئے ایک مثال ہے اور زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ لمبے چوڑے دعوے کرنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور عملی کام کرنے والے کوئی دعوی کئے بغیر کچھ کر دکھاتے ہیں۔" (الفضل ۱۳۔نومبر ۱۹۴۸ء صفحه ۲) مشکلات اور روکیں تو قدم قدم پر پیش آئیں مگر خدا تعالیٰ کے فضل افتتاح مرکز نو۔ربوہ سے حضرت مصلح موعود کے عزم و ہمت تو کل علی اللہ کے سامنے ایک ایک کر کے پر کاہ کی طرح اڑتی چلی گئیں۔آسمان نے تائید و نصرت کی بارش برسائی زمین نے اسباب و ذرائع کی سہولتیں مہیا فرما ئیں اور ایک ریکار ڈ وقت میں احمدیت کا باغ ایک اجنبی جگہ میں لہلہانے لگا۔کسی دوسری مهاجر تنظیم بلکہ حکومت کی طرف سے بھی اس عمدگی ، سلیقے اور بہترین تربیت سے نئی بستی بسائی نہیں جاسکتی تھی۔بستی بسانا کھیل نہیں ہے بستے بستے بستی ہے ربوہ کی بستی کی ابتداء ان خیموں کے نصب کرنے سے ہوئی جن میں سے پہلا خیمہ مکرم عبد السلام صاحب اختر اور مکرم چوہدری محمد صدیق صاحب نے ۱۹۔ستمبر کو اپنے ہاتھوں سے نصب کیا۔اس ایمان افروز واقعہ کو قلم بند کرتے ہوئے مکرم اختر صاحب لکھتے ہیں۔