سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 99 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 99

گی۔٩٩ مرزا صاحب نے مزید بتایا کہ وہ شہر کو اس قدر دلفریب اور جدید نوعیت کا بنانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک نمونہ ہو اور حکومت بھی اس قسم کے شہر ان علاقوں میں تعمیر کرے جو فضول پڑے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو ایک بہترین خطہ ارضی بنایا جائے اور یہ اسی طرح ہی ممکن ہے۔اگر حکومت ان علاقوں میں جدید طرز کے گاؤں اور شہر بنانے کا کام شروع کر دے تو تھوڑے ہی عرصے میں تمام پاکستان جنت نظیر بن سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ربوہ میں کار خانے بھی لگائے جائیں گے جو ضروریات زندگی تیار کریں گے۔اس مقصد کے لئے ایک حصہ وقف کر دیا گیا ہے۔آپ نے توقع ظاہر کی کہ جونہی حکومت نے شہر کی تعمیر کی اجازت دے دی تو بیک وقت کام شروع کر دیا جائے گا اور ایک سال کے اندراندر شہر کو مکمل کر دیا جائے گا۔ربوہ کا دورہ کرنے کے بعد اخبار نویسوں کو ٹیلہ بالناتھ کا دورہ کرایا گیا جہاں سات ہزار ایکڑ زمین بیکار پڑی ہے۔آپ نے یہ بھی توقع ظاہر کی کہ اگر حکومت اس زمین پر ایک شہر تعمیر کرنے کا پروگرام بنائے تو ایک بہترین شہر اس علاقہ میں تعمیر ہو سکتا ہے۔" لاہور کے مشہور اخبار ” سول اینڈ ملٹری گزٹ " کے نامہ نگار خصوصی نے تحریر کیا۔”لاہور کے اخبار نویسوں کی ایک پارٹی نے گذشتہ اتوار کو ربوہ کے مقام پر ایک نهایت خوشگوار ٹرپ کی۔ربوہ شیخو پورہ اور سرگودھا کے درمیان کی سڑک پر چنیوٹ سے تقریباً دس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔اس جگہ جماعت احمدیہ نے اپنے مرکزی دفاتر قائم کرنے کیلئے ایک ہزار چونتیس ایکڑ زمین خریدی ہے۔جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ سردست نئی بستی کے قیام پر تیرہ لاکھ روپیہ کے خرچہ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ہم یہاں پر ایک ایسا معیاری قصبہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں ہسپتال ، تعلیمی ادارے اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے علاوہ مقامی باشندوں کے لئے ہر ممکن سہولتیں مہیا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔دریائے چناب سے واٹر پمپ کے ذریعہ سے قصبہ کے لئے پانی مہیا کیا جائے گا۔اخبار نویسوں کی پارٹی نے ربوہ سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ایک اور موزوں قطعہ زمین