سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 92
امام مسجد الندان حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد نے آپ کے اعزاز میں ایک دعوت استقبالیہ دی جس میں امریکہ برازیل میکسیکو اور عرب کے سفراء کے علاوہ سر عبدالقادر اور پروفیسر گب جیسی نامور شخصیتیں بھی شامل ہوئیں۔امیر سعود دو گھنٹے تک مسجد میں موجود رہے اور انگریز نومسلموں سے عربی زبان میں نماز سنگر اور ان کی دستی تحریریں دیکھ کر بہت خوش ہوتے " : الفضل ۱۶ جولائی ۱۹۳۵ مسجد کی افادیت کا ایک خاص پہلو حضرت مولانا شیر علی صاحب نے جو قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کے سلسلہ میں انگلستان تشریف لے گئے تھے مسجد فضل لندن کی افادیت پر اس زمانہ میں ایک مضمون لکھا تھا جو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے " خدا تعالیٰ کے فضل سے مسجد فضل لندن کا وجود بھی تبلیغ کا ایک زبر دست ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔جو لوگ بیرونی ممالک مثلاً ممالک یورپ - افریقہ ایشیا - امریکہ اور جزائر سے سیر کے لیے لندن آتے ہیں کئی ان میں سے مسجد کے دیکھنے کے لیے آجاتے ہیں اور بعض ان میں سے نہایت تعلیم یافتہ اور سمجھدار آدمی ہوتے ہیں اور بیرونی ممالک کے علاوہ خود انگلستان کے مختلف شہروں کے آدمی جب لندن آتے ہیں تو بعض ان میں سے مسجد کو دیکھنے کے لیے آجاتے ہیں۔گویا ہماری مسجد اب لندن کے قابلِ دید مقامات میں سے ہو جیکی ہے اور لندن کی جو گائیڈ بکس سیاحوں کی راہنمائی کے لیے بنی ہوتی ہیں ان میں ہماری مسجد کا بھی ذکر ہے مسجد کی شہرت کا ایک باعث وہ جلسے ہیں جو وقتا فوقتا مسجد میں نہایت کامیابی کے ساتھ کئے جاتے ہیں جن میں لندن کے ہر طبقہ کے نامی آدمی شریک ہوتے ہیں۔اور جن کا ذکر لندن کے مختلف اخبارات میں شائع ہوتا ہے۔کچھ عرصہ ہوا انگلستان کے ایک قصبہ کا ایک بوڑھا آدمی مسجد میں آیا اس نے کہا کہ میرا یہ دستور العمل ہے کہ جب مجھے فرصت ملتی ہے تو میں لندن آجاتا ہوں اور لندن کا کوئی نہ کوئی مشہور مقام دیکھتا ہوں اور اس مقام کے متعلق لٹریچر خرید کر کے اپنے ساتھ لے جاتا ہوں۔میں نے اپنے گھر میں ایک لائبریری بنائی ہوئی ہے جس میں دلچسپ معلومات می شتمل کتا میں جمع کرتا ہوں۔کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک اخبار میں اس مسجد کا فوٹو اور حالات دیکھے تھے اور اس وقت میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب کی دفعہ جب میں لندن جاؤں گا تو اس مسجد کو جا کر دیکھوں گا۔گذشتہ سال ایک صاحب آئے انہوں نے کہا کہ میں ایک کتاب تصنیف کر رہا ہوں جس میں لندن کی عجیب چیزوں کے