سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 84
نہیں کر سکتے تو مردوں کا کیا حال ہو گا۔اس سے خود خیال ک که بری تعداد ایسے آدمیوں کی تھی جنہوں نے اپنی نا زوار آمد بہوں سے زیادہ چندہ لکھوایا۔۔۔۔بعض لوگوں کا حال مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ نقد پاس تھا انہوں نے دے ، اور قرض لیکر کھانے پینے کا انتظام کیا۔ایک صاحب نے جو بوجہ غربت زیادہ رقم چندہ ، داخل نہیں کر سکتے تھے۔نہایت حسرت سے مجھے لکھا کہ میرے پاس اور تو کچھ نہیں میری دکان کو نیلام کر کے چندہ میں دے دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔لوگوں نے بجائے آہستہ آہستہ ادا کرنے کے زیورات وغیرہ فروخت کر کے اپنے وعدے ادا کر دیتے۔( تواریخ مسجد فضل لندن م) اسلامی رواداری : مسجد کی تعمیر سچائی کے ان دشمنوں کا عملی جواب تھا جو جماعت پر محض تعصب اور ضد کی وجہ سے یہ الزام لگاتے ہیں کہ احمدی دوسرے مسلمانوں سے دب کر ان کی کثرت کی وجہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ورنہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔عیسائی یورپ کے مرکز لندن میں جماعت نے مسجد کی بنیاد رکھی حالانکہ اگر مذکورہ بالا الزام میں بال برابر بھی صداقت ہوتی تو یورپ میں مسجد کی بجائے عیسائیوں سے دب کر گر جا بنایا جاتا۔مگر یورپ میں بننے والی یہ مسجد جس کی تعمیر ایک بہت ہی کمزور غریب اور نا قابل ذکر جماعت کے چندہ سے ہو رہی تھی۔اعلان تھا اس امرکا کہ اس جماعت کا مقصد وحید اسلامی عظمت کا قیام ہے۔اس جماعت کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا میں بلند ہو جس وقت لندن میں مسجد کی بنیاد رکھی جارہی تھی اسی وقت اس تقریب کے بابرکت ہونے کے لیے حضرت مولانا شیر علی صاحب کی قیادت میں قادیان کی جماعت اور دنیا بھر کی جماعتیں انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ اجتماعی دُعا کر رہی تھی۔حضرت فضل عمرہ نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے سے قبل اسلامی رواداری اور امن و سلامتی کی عالمگیر تعلیم کے مطابق مندرجہ ذیل عظیم الشان اعلان فرمایا : پیشتر اس کے کہ میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھوں۔میں اس امر کا اعلان کرنا چاہتا ہوں که یه مسجد صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی جاتی ہے تاکہ دنیای خدا تعالیٰ کی محبت قائم ہو اور لوگ مذہب کی طرف جس کے بغیر حقیقی امن اور حقیقی ترقی نہیں متوجہ ہوں اور ہم کسی شخص کو جو خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہیے ہرگز اس میں عبادت کرنے سے