سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 83 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 83

اور خدائی منشا ومشیت کا اظہار فرمایا کہ کا سر صلیب کی جماعت کسر صلیب کے سفر پر رواں دواں ہے اور یہ کہ رستہ میں آنے والی کوئی مشکل کوئی طوفان کوئی گھائی اس کے سفر میں روک نہیں بن سکتی اور یہ بھی کہ احمدیوں کی مٹھی بھر کمزور جماعت خدائی فضلوں اور احسانات کی وجہ سے ایسا کامل یقین اور جذبہ رکھتی ہے جو نا کامی و شکست کا نام نہیں جانتا۔اس مسجد کی تعمیر کے لیے نہایت مشکل مساعد حالات میں خدا تعالیٰ کے غیر معمولی سلوک کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جنوری کو مستورات میں صبح کے وقت اور اسی دن شام کے وقت مردوں میں اور پھرہ، جنوری کو جمعہ کے خطبہ میں ۳۰۰۰۰ روپے جمع کرنے کی تحریک فرمانی گیارہ تاریخ تک قادیان کی تفریب جماعت کا چندہ بارہ ہزار تک پہنچ گیا۔اس غیر معمولی قربانی پر اظہارِ خوشنودی کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔" اس غریب جماعت سے اس قدر چندہ کی وصولی خاص تائید الہی کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اس چندہ کے ساتھ شامل ہے ان دنوں میں قادیان کے لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا۔اور اس کا وہی لوگ ٹھیک اندازہ کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا ہو مرد اور عورت اور بچے سب ایک خاص نشہ محبت میں چور نظر آتے تھے۔کئی عورتوں نے اپنے زیور اتار دیئے اور بہتوں نے ایک دفعہ چندہ دے کہ پھر دوبارہ جوش آنے پر اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کر دیا۔پھر بھی جوش کو دیتا نہ دیکھ کر اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا کیونکہ جوش کا یہ حال تھا کہ ایک بچہ نے جو ایک غریب اور محنتی آدمی کا بیٹا ہے مجھے ساڑھے تیرہ روپے بھیجے کہ مجھے جو پیسے خرچ کے لیے ملتے تھے ان کو میں جمع کرتا رہتا تھا وہ میں سب کے سب اس چندہ کے لیے دیتا ہوں نہ معلوم کن کن اُمنگوں کے ماتحت اس بچے نے وہ پیسے جمع کئے ہوں گے لیکن اس کے مذہبی جوش نے خُدا کی راہ میں ان پیسوں کے ساتھ ان اُمنگوں کو بھی قربان کر دیا۔مدرسہ احمدیہ کے غریب طالب علموں نے جو ایک سو سے بھی کم نہیں اور اکثر ان میں سے وظیفہ خوار ہیں ساڑھے تین سو روپے چندہ لکھوایا۔ان کی مالی حالت کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ کے لیے اپنی اشد ضروریات کے پورا کرنے سے بھی محرومی اختیار کرلی۔۔۔۔۔۔۔یہ حال عورتوں اور بچوں کا تھا جو بوجہ کم علم یا قلت تجربہ کے دینی ضروریات کا اندازہ پوری طرح