سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 80
ایسی کامیابی کبھی نہ ہوتی جیسی کہ اس لیکچر کے ذرایہ سے ہوئی ہے۔برطانوی پریس میں اس مضمون کا بطور خاص چرچا ہوا۔صرف ایک اخبار کے تبصرہ کا ایک حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔" آپ نے اپنے مضمون کو جس میں زیادہ تر اسلام کی حمایت اور تائید تھی ایک پر جوش اپیل کے ساتھ ختم کیا جس میں انہوں نے حاضرین کو اس نئے مسیح۔۔۔۔۔۔۔کے قبول کرنے کے لیے مدعو کیا۔اس بات کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ اس پرچہ کے بعد جس قدر تحسین و خوشنودی کا چیئرز (CHEERS) کے ذریعہ اظہار کیا گیا اس سے پہلے کی پرچھ پر الیسا نہیں کیا گیا تھا۔مانچسٹر گارڈین ۲۴ ستمبر ا بحواله الفضل ۱۸/ نومبر) ایک پریس رپورٹر نے دنیا بھر کے پولیس کو مندرجہ ذیل خبر بھجوائی۔" مرزا بشیر الدین امام جماعت احمدیہ کا مضمون پڑھے جانے پر سر تھیوڈور مارین نے اپنے پریذیڈنشل ریمارکس میں کہا کہ اس سلسلہ (احمدی ) ---- کا پیدا ہونا ثابت کرتا ہے کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے - (حضرت) مرزا بشیر الدین نے جن کے ہمراہ بہت سے سبز عماموں والے متبعین تھے فرمایا کہ سلسلہ احمدیہ سلسلہ موسویہ میں سلسلہ عیسویہ کی طرح اسلام میں ایک ضروری اور قدرتی تجدید ہے جس کی غرض کسی نئے (شرعی) قانون کا اجرا نہیں بلکہ اصلی اور حقیقی اسلامی تعلیم کی اشاعت کرنا ہے۔اس مضمون پر حضور کا تبصرہ الفضل ۳۰ ستمبر ۹۲ )۔۔۔۔۔پرانے زمانوں میں لوگ فلسفہ، منطق، احادیث اور تفاسیر اور کیا کیا علوم پڑھتے تھے اور پھر صوفی بنتے تھے۔اور روحانی علوم سیکھتے تھے۔مگر آج وہ لوگ روحانی علوم رکھتے ہیں جو بظاہر بالکل جاہل ہیں۔لوگ جاہل کہے جانے پر ناراض ہوتے ہیں گریں تو خوش ہوتا ہوں کیونکہ جب وہ مجھے جاہل کہتے ہیں تو گویا اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ میں تو خدا تعالیٰ کا ہتھیار ہوں۔اور جب اس نے دین کی خدمت کا مجھے موقعہ دیا تو یہ اس کا فضل ہے۔اگر میں ان پڑھ ہونے کے باوجود علم کی باتیں بیان کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا نے مجھے چن لیا اور مجھے جاہل کہ کہ میرے مخالف گویا یہ تسلیم کرتے ہیں