سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 81
کہ میری باتیں میری نہیں بلکہ خدا کی سکھائی ہوئی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جو لوگ حضر مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھتے ہیں وہ مانتے ہیں کہ ان میں بڑا علم ہے۔حالانکہ آپ کے دشمن آپ کو جاہل کہتے ہیں۔آپ کا درجہ تو بڑا ہے ہم جو آپ کے ادنی خدام میں ہمارے ساتھ بھی اس کا یہی معاملہ ہے۔مجھے اپنے اور بیگانے جاہل کہتے چلے آتے ہیں لیکن چند سال ہوئے فرانس کی رائل ایشیا تک سوسائٹی نے جو بہت وقیع سوسائٹی ہے اور جس کی ممبر شپ کا اظہارہ لوگ فخریہ طور پر اپنے ناموں کے ساتھ کرتے ہیں۔میری کتاب احمدیت کا حوالہ دے کر اسلام کے متعلق ایک مضمون لکھا اور میری کتاب کے متعلق لکھا کہ اسلام کے متعلق وہ تصنیف اہم ترین ہے۔پس میں گو جاہل ہوں مگر ایسی بانسری ہوں جو خدا کے منہ میں ہے۔اور خدا تعالی کی آواز پہنچانے والی بانسری کے متعلق کون کہ سکتا ہے نیر لکڑی ہے۔حقیر لکڑی بھی خدا تعالی کا آلہ بن کر بڑی قیمتی ہو جاتی ہے۔لوگ پرانے بادشاہوں کی تلواروں کو بڑی حفاظت سے رکھتے ہیں حالانکہ وہ کسی خاص لو ہے کی بنی ہوئی نہیں ہوتیں۔ان کی فضیلت اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ خاص ہاتھوں میں استعمال کی جاچکی ہیں۔پھر جو تلوار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہو اسے فضیلت کیوں نہ ہو گی۔بے شک ہے تو وہ لوہا مگر خُدا کے ہاتھ میں ہے۔حضرت خالد بن ولید کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سَيفٌ مِن سُيُونِ اللَّهِ کہا تو کوئی نہیں کہ سکتا تھا کہ ان کی پتنگ کی گئی ہے۔انہیں لوہا کہا گیا ہے جو بے جان چیز ہے کیونکہ جو لوہا خدا کے ہاتھ میں ہو وہ حقیر نہیں ہو سکتا۔اسے خدا نے نوازا ہے نہیں صرف جاہل کہہ دینے سے کچھ نہیں بنتا۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کام عالموں والے ہیں یا نہیں ہیں۔اگر ہیں تو ماننا پڑے گا کہ کسی عالم ہستی کے ساتھ تعلق ہے۔" ) الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۳۵-) اس کتاب کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے ایک اور موقعہ پر حضور نے فرمایا : " احمدیت اور دعوۃ الامیر کے بعض حصے ایسے ہیں جن کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ خدائی تائید شامل ہے اور وہ انسانی الفاظ نہیں رہے بلکہ خدا تعالیٰ کے القامہ کردہ الفاظ ہو گئے ہیں۔) الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۳۷ -