سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 79
یہ مضمون میں تفصیل و بیان کا تقاضا کرتا تھا اس کی وجہ سے اس کی ضخامت اتنی ہوگی کہ کانفرس کے مجوزہ وقت میں اسے بیان کرنا ممکن نہ تھا۔چنانچہ حضور نے ایک مختصر مضمون تیار فرمایا۔اس کا انگریزی ترجمہ AHMADIYYA MOVEMENT کے نام سے شائع ہوا ) جو اس مجلس میں حضور کے ارشاد به بر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے پڑھا۔حضور اپنے تمام رفقا سمیت اس مجلس میں موجود تھے۔یہاں اس امر کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ جب حضرت چوہدری صاب مضمون پڑھنے کے لیے اُٹھنے لگے تو حضور نے ان کے کان میں فرمایا گھبرانا نہیں میں دعا کروں گا۔حضرت چوہدری صاحب جیسے انگریزی زبان پر عبور رکھنے والے مشاق لیکچرار کے لیے یہ الفاظ اور زیادہ خدائی امداد و یقین کا باعث ہوتے اور یہ تقریر تمام سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر سنی۔اور مضمون کے خاتمہ پر اجلاس کے صدر مسٹر تھیوڈور مارلین نے اپنے تبصرہ میں کہا کہ : مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرالیا ہے۔میں صرف اپنی طرف سے اور حاضرین جلسہ کی طرف مضمون کی خوبی ترتیب ، خوبی خیالات اور اعلی درجہ کے طریق استدلال کے لیے حضرت خلیفہ المسیح کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔حاضرین کے چہرے زبان حال سے میری رائے کے ساتھ متفق ہیں اور مجھے یقین ہے کہ میں ان کی طرف سے شکریہ ادا کرنے میں حق پر ہوں۔اور ان کی ترجمانی کر رہا ہوں۔ایک مشہور فرانسیسی عالم جو مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں بہت مہارت رکھتے تھے۔مضمون سُن کر بے ساختہ کہنے لگے "WELL PUT, WELL ARRANGED, WELL DELT۔" یعنی ، ین و بیان کیاگیا خوب ترتیب دیاگیا اورخوب پیش کی گی۔ب اکثر حاضرین کی زبان پر تھا کہ "RARE ADDRESSES, ONE CANNOT HAVE SUCH ADDRESSES EVERY DAY۔" " ایک نا در خطاب۔ایسے اچھوتے مضامین ہر روز سننے میں نہیں آتے۔بعض تبصرہ کرنے والوں نے کہا کہ یہ اس زمانہ کا لوتھر (مصلح) معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ یہ موقعہ احمدیوں کے لیے ایک ٹرنگ پوائنٹ ہے اور یہ ایسی کامیابی ہے کہ آپ لوگ ہزاروں پونڈ بھی خرچ کر دیتے تو ایسی شہرت !