سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 78
ان نقائص اور خرابیوں کی وجہ سے جن کا یہاں ذکر کی گیا ہے لیگ آف نیشنز عرصہ ہوا دم توڑ گئی دنیا ایک ہولناک جنگ کی خوفناک تباہی سے دوچار ہوئی لاکھوں جانوں اور کروڑوں کی جائیداد و املاک کو ہوس ملک گہری کے بھیانک دیو کی بھینٹ چڑھا کہ دنیا کے بہترین دماغوں نے یونائیٹڈ مینز قائم کی مگر سے عقل خود اندھی ہے گر نیر الہام نہ ہو ابھی بھی قرآنی تعلیمات پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔معاہدات میں انصاف کی بجائے جنبہ داری اور دھڑے بندی سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ کے فساد کی بنیاد اور بغض و حسد کی چنگاری پیچھے رہنے دی گئی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو کسی وقت بھی ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ آگ کی شکل میں تبدیل ہو کر اس چکا چوند کرنے والی تہذیب و تمدن اور ساری مایہ ناز ترقیات کو اپنی پیٹ میں لے کر اس طرح بھسم کر سکتی ہے کہ جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔اس تباہی سے بچنے کے لیے جو ہر وقت دنیا کے سروں پر مسلط ہے وہی رہنما اصول کام آسکتا ہے جو حضور نے ۱۹۷۳ء میں قرآن مجید سے مستقبط کرکے بیان فرمایا تھا۔حضرت مصلح موعود نے اس عظیم قرآنی انکشاف پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ایک تقریر میں جو نظام نو کے نام سے شائع ہو چکی ہے فرمایا : ۱۹۲۴ م قریباً ہر جگہ ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو بالشو ازم کے مداح ہوتے ہیں۔اس لیے میں نے بالشوازم کی خوبیاں بھی بنادی ہیں اور اس کی خرابیاں بھی بتا دی ہیں۔اس طرح دوسری تحریکات کی خوبیاں اور ان کی خامیاں بھی بنا دی ہیں۔پس ان پر غور کرو اور تعلیم یافتہ طبقہ سے ان کو لوظ رکھ کر گفتگو کرو۔میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ دلائل ایسے ہیں جن کا کوئی جواب ان تحریکات کے مؤیدین کے پاس نہیں۔دنیا میں اگر امن قائم ہو سکتا ہے تو اسی ذریعہ سے جس کو میں نے آج بیان کیا ہے۔اسی طرح آج سے اٹھارہ سال پہلے یہ میں امن عامہ کے قیام کے متعلق خدا تعالیٰ نے میر سے ذریعہ سے کتاب " احمدیت میں ایک عظیم الشان انکشاف کیا۔میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ الیسا عظیم الشان اظهار گذشته تیره سو سال میں پہلے مفسرین میں سے کسی نے نہیں کیا۔اور یقینا وہ ایسی تعلیم ہے کہ گو اس قسم کا دعوی کرنا میری عادت کے خلاف ہے۔مگر میں یقینی طور پر کہ سکتا ہوں کہ اس قسم کا انکشاف سوائے نبیوں اور ان کے خلیفوں کے آج تک کبھی کسی نے نہیں کیا۔اگر کیا و تو لاؤ مجھے اس کی نظیر دکھاؤ" ر نظام نوصت