سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 77 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 77

بڑا موجب ہیں۔اور ان کا دور ہونا نہایت ضروری ہے۔دنیا جب تک اس گر کو نہیں سمجھے گی کہ حب الوطنی اور حُب الانسانیت کے دونوں جذبات ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا۔اسلام نے کیا چھوٹے سے فقرے میں اس مضمون کو ادا کیا ہے۔انصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُو ما رمتفق علیہ یعنی تو اپنے بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم مدد کر مظلوم کی اس طرح کہ اسے دوسروں کے حکم سے بچا اور ظالم کی اس طرح کہ تو اس کو ظلم کرنے سے بچا۔- کیا لطیف پیرایہ میں حب الوطنی اور محب الانسانیت کے جذبات کو جمع کر دیا ہے۔جب کوئی شخص اپنے ہم قوموں کو دوسری قوموں پر ظلم کرنے اور ان کے حقوق غصب کرنے سے روکتا ہے تو وہ حب الوطنی کے خلاف کام نہیں کرتا۔کیونکہ اس سے زیادہ حُب الوطنی اور کیا ہو گی کہ اپنے ملک کے نام کو ظلم کے دھبہ سے بچائے اور پھر ساتھ ہی وہ حب الانسانیت کے فرض کو بھی ادا کر رہا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ خود زندہ رہو اور دوسروں کو زندہ رہنے دو۔(۳) تیرا اخلاقی نقص یہ ہے کہ قومی برتری کا خیال بہت بڑھ گیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔لَا يَسْخَرُ قَوْمَ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمُ الحجزت (۱۲۱) کوئی قوم دوسری قوم کو حقیر نہ سمجھے۔شاید وہ کل کو اس سے اچھی ہو جاتے اور فرماتا ہے۔تِلكَ الأَيَّامُ نُدَاوِ لَهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران : ۱۳۱) یہ دن ترقی و تنزل کے بدلتے رہتے ہیں۔ایک قوم جو ترقی کی طرف جارہی ہو دوسری قوموں کو حقیر سمجھے کہ فساد کا بیج نہ ڈالے کہ کل شاید اس کی باری آئے جسے آج حقیر سمجھا جا رہا ہے۔جب تک کہ لوگ اسلام کی تعلیم کے مطابق یہ نہیں سمجھیں گے کہ ہم سب ایک ہی جنس سے میں اور یہ کہ ترقی تنزل سب قوموں سے لگا ہوا ہے کوئی قوم شروع سے ایک ہی حالت پر نہیں چلی آئی اور نہ آئندہ چلے گی کبھی فساد نہ ہوگا۔لوگوں کو یاد رکھنا چاہتے کہ قوموں کو زیر وزیر کرنے والے آتش فشاں مادے دُنیا سے ختم نہیں ہو گئے۔نیچر جس طرح پہلے کام کرتی چلی آتی ہے اب بھی کر رہی ہے۔پس جو قوم دوسری قوم سے حقارت کا معاملہ کرتی ہے وہ ظلم کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر چلاتی ہے " احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحه ۲۲۸ تا صفحه ۲۳۲ )