سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 64
۶۴ اسلام کی فتح و کامرانی اور کسر صلیب کے لیے دعا کی اور اپنی رہائش گاہ واقع چیشم پلیس تے میں تشریف لے گئے۔برطانوی پولیس میں غیر معمولی ذکر و چرچے کا اندازہ اس ایک امرسے ہو سکتا ہے کہ ایک متعصب رومن کیتھولک اخبار کو لکھنا پڑا کہ سارا برطانوی پریس کسی سازش کا شکار ہو گیا ہے ؟ بڑی کثرت سے آپ کی تصاویر اور جماعت کا تعارف اخبارات میں شائع ہوا بلکہ بعض فلم کمپنیوں نے ان مناظر کی فلم بندی کی اس طرح غیر معمولی شہرت و اشاعت اور قبولیت و تائید الہی کے نشان ظاہر ہوئے۔لندن سے واپسی کے لیے حضور ۲۵ اکتوبر ۹۶ تہ کو واٹرلوٹیشن سے جہاں مختلف رنگ و نسل کے ایک کثیر مجمع نے آپ کو دُعاؤں اور اخلاص سے الوداع کیا۔گاڑی میں سوار ہوتے ساؤتھ پٹنی سے حضور نے رودبار انگلستان بذریعہ بحری جہاز عبور کی۔۱۲۶ اکتوبر کو بند بعد گاڑی حضور پیرس پہنچے۔اس جگہ بھی پولیس کے نمائندوں نے آپ سے ملاقات کی اور تصویریں لیں۔پیرس میں ایک نو تعمیر مسجد میں حضور نے پہلی نماز پڑھائی۔۳۱ اکتوبر کو حضور پیرس سے روانہ ہوئے۔۲ نومبر کو دنہیں (اٹلی) سے بحری جہاز کے ذرایعیہ ۱۸ نومبر کو بتی کے ساحل پر رونق افروز ہوئے۔دو سو سے زائد نمائندگان جماعت نے حضور کا استقبال کیا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے تمام جماعت کی نمائندگی میں خیر مقدمی سپاس نامہ پیش کیا۔حضور جناب سید محمد رضوی صاحب کے ہاں "لیاقت منزل“ میں فروکش ہوئے۔بمبئی کے تمام بڑے بڑے اخبارات نے حضور کے انٹرویو لئے اور اس طرح پریس کے ذریعہ خوب تبلیغ و اشاعت ہوئی۔حضور نے بمبئی پہنچنے پر اپنی ہمہ تن مشتاق دو منتظر جماعت کے نام بذریعہ تار اپنے سفر کی کامیابی اور خدائی تائید و نصرت کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ پیغام ارسال فرمایا : میں اپنی طرف سے اور اپنے رفقا سفر کی طرف سے تمام احباب جماعت احمدیہ کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمارے مشن کی کامیابی کے لیے دعائیں کیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ حیرت انگیز کامیابی جو ہمیں اپنے اس سفر کے دوران میں حاصل ہوتی محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی وجہ سے تھی۔اس نے ہر قدم پر ہماری نصرت فرمائی اور ہمارے لیے ایسے اوقات میں دروازے کھولے جبکہ ہمیں کوئی رستہ نظر نہیں آتا تھا۔میں تمام احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے آقا و مولیٰ کے اس خاص فضل کو یاد رکھیں اور اپنے آپ کو ان بڑی قربانیوں کے لیے تیار کریں جو انہیں ان اثمار کے حاصل کرنے