سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 63 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 63

۶۳ صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کی آنکھ کھلتے ہی اس اصل کو معلوم کر لیا تھا۔۔۔۔۔۔اس لیے آپ نے فرمایا : خَالِفُوا الْيَهُودَ وَالتَّصَاری اور مَن نَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمُ اور حقیقت یہی ہے کہ جو کسی قوم کے لباس کو اور تمدن کو قبول کر لیتا ہے وہ دل سے اپنی میں سے ہوتا ہے کیونکہ دل اس کا ان کی عظمت اور بڑائی کا قائل ہو چکا ہوتا ہے؟ ) الفضل ۲۳ اگست ۱۹۲۴ ) مختصر کوائف سفر : خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک خاص وجاہت کوشش عطافرمائی تھی اس کی وجہ سے سفر اور قیام لیورپ کے دوران لوگ آپ کی طرف کھیچھے آتے اور آپ سے اسلام کی برتری و حقانیت کے دلائل معلوم کرتے اور متاثر ہوتے۔ایک موقعہ پر جب حضور اپنے رفقا۔سفر کے ہمراہ نماز با جماعت ادا فرما رہے تھے ایک اٹالین ڈاکٹر نے حضور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : "JESUS CHRIST AND TWELVE DESCIPLES۔" یعنی مسیح علیہ السلام اور ان کے بارہ حواری۔حضور کا جہاز عدن سے ہوتا ہوا ۲۹ جولائی کو پورٹ سعید پہنچا۔پورٹ سعید سے قاہرہ کا سفر بذریعہ ریل گاڑی کیا گیا۔قاہرہ سے بیت المقدس اور حیفا کے رستے حضور دمشق تشریف لے گئے۔ہم اگست سے 9 اگست تک آپ کا دمشق میں قیام رہا۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عظیم پیشگوئی کے پورے کرنے کا جس کی تفصیل آگے آرہی ہے باعث بنا۔حضور ۱۰ راگست کو دمشق سے روانہ ہو کر بیروت سے ہوتے ہوئے حیفا پہنچے۔۱۳ راگست کو آپ پورٹ سعید سے بریڈزی تشریف لے گئے جہاں آپ کا جہانہ 14 اگست و بجے صبح پہنچا۔اسی دن شام کو حضور بذریعہ گاڑی روما تشریف لے گئے جہاں آپ نے چار روز قیام فرمایا۔اگست شام کو روما سے روانہ ہو کر اگلے دن صبح نو بجے پیرس پہنچے۔پیرس سے کیلئے جاکر بذریعہ جهاز رودبار انگلستان عبور کر کے ڈوور اور وہاں سے گاڑی پر ۲۲ اگست قریباً 4 بجے لندن کے وکٹوریہ سٹیشن پر پہنچے۔جہاں احباب جماعت نے حضور کا استقبال کیا۔حضور نے پلیٹ فارم پر احباب سمیت لمبی دُعا کی۔سٹیشن سے حضور لڈ گیٹ تشریف لے گئے اور سینٹ پال کے گر جا کے پاس