سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 55
۵۵ نظر آرہے تھے۔اسی تسلسل میں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مشہور عالم ویلے کا نفرنس لندن کے منتظمین کے دلوں میں ڈالا کہ وہ حضور کی خدمت میں درخواست کریں کہ حضور اس کانفرنس میں بنفس نفیس شامل ہو کر خطاب فرمائیں۔یہ ایک خدائی تصرف و انتظام تھا کہ آپ تبلیغ اسلام کی قسم کو بین الاقوامی سطح پر پھیلا کر مامور وقت کے ساتھ نازل ہونے والی برکات و انوار کو وسیع سے وسیع تر کر سکیں۔۱۹۲۴ء میں یہ سفر کئی لحاظ سے بہت مشکل اور لمبا تھا۔معاصر الفضل کے مندرجہ ذیل بیان سے اس اہم سفر کے پس منظر پر روشنی پڑتی ہے : حضور کے اس سفر کی تیاری نے احباب جماعت کے قلوب میں جو جذبات پیدا کر دیتے ہیں اور جن احساسات کو بیدار کر دیا ہے انہیں احاطہ تحریر میں لانا قطعا محال ہے۔ایک ہی لمحہ اور ایک ہی وقت میں جہاں دل میں خوشی اور مسرت کی ہر اٹھتی ہے وہاں صدمہ اور تکلیف بھی پیدا ہوتی ہے۔خوشی اور فرحت تو اس لیے کہ یہ سفر جن اغراض طلیہ و مقاصد دینیہ کو مد نظر رکھ کر اختیار کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے وہ نہایت ہی عظیم الشان ہونے کے علاوہ اسلام کی آئندہ ترقی اور شوکت کے لیے بطور بنیاد کے ہیں۔اور ان بنیادی امور کی صحت اور درستی کو جانچنے اور انہیں مضبوط اور پختہ بنانے کا اہل اس پاک اور مقدس وجود سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے اس انسان کو قائم مقام بنا کر دنیا میں کھڑا کیا جو اس زمانہ میں اسلام میں زندگی کی روح ڈالنے کے لیے آیا۔ایسے مبارک اور متبرک مقصد کے لیے جو سفر اختیار کیا جائے وہ ایک ایسی جماعت کے لیے جس کے پیدا ہونے کی غرض ہی حفاظت اور اشاعت اسلام ہے جس قدر بھی خوشی اور مسرت کا باعث ہو کم ہے۔اور خاص کر اس صورت میں جبکہ اس سفر کے ذریعہ بعض عظیم الشان پیشگو تیوں کے زیادہ وضاحت اور خوبی کے ساتھ پورا ہونے کا خیال ہو لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ اپنے پیارے اور محبوب امام کا ایسی حالت میں کالے کوسوں کا سفر اختیار کرنا جماعت احمدیہ کے لیے کم بے چینی اور اضطراب کا باعث نہیں جبکہ ایک تو حضور کو ایسی اہلی ضروریات اور شکلات کا سامنا ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ پر کامل توکل اور پورا بھروسہ ہی وجہ اطمینان ہو سکتا ہے۔دوسرے آپ کی صحت جو ہمیشہ کمزور رہتی ہے سفر کی گوفت اور دیگر تکالیف کی وجہ سے متفکر کرتی ہے۔تیرے ساری جماعت کی ان تمام ذمہ داریوں کا جو مرکزہ